مسند امام احمد - حضرت عماربن یاسر (رض) کی مرویات - 17598
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ قَالَ قُلْتُ لِعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ يَا أَبَا الْيَقْظَانِ أَرَأَيْتَ هَذَا الْأَمْرَ الَّذِي أَتَيْتُمُوهُ بِرَأْيِكُمْ أَوْ شَيْءٌ عَهِدَهُ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ
قیس بن عباد (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمار بن یاسر (رض) سے پوچھا اے ابوالیقظان ! یہ بتائیے کہ جس مسئلے میں آپ لوگ پڑچکے ہیں وہ آپ کی اپنی رائے ہے یا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کوئی خاص وصیت ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں خصوصیت کے ساتھ ایسی کوئی وصیت نہیں فرمائی جو عام لوگوں کو نہ فرمائی ہو۔
Top