مسند امام احمد - حضرت بن ضرارخزاعی (رض) کی حدیث - 17735
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ دِينَارٍ حَدَّثَنَا أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ الْحَارِثَ بْنَ أَبِي ضِرَارٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَانِي إِلَى الْإِسْلَامِ فَدَخَلْتُ فِيهِ وَأَقْرَرْتُ بِهِ فَدَعَانِي إِلَى الزَّكَاةِ فَأَقْرَرْتُ بِهَا وَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْجِعُ إِلَى قَوْمِي فَأَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَأَدَاءِ الزَّكَاةِ فَمَنْ اسْتَجَابَ لِي جَمَعْتُ زَكَاتَهُ فَيُرْسِلُ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا لِإِبَّانِ كَذَا وَكَذَا لِيَأْتِيَكَ مَا جَمَعْتُ مِنْ الزَّكَاةِ فَلَمَّا جَمَعَ الْحَارِثُ الزَّكَاةَ مِمَّنْ اسْتَجَابَ لَهُ وَبَلَغَ الْإِبَّانَ الَّذِي أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبْعَثَ إِلَيْهِ احْتَبَسَ عَلَيْهِ الرَّسُولُ فَلَمْ يَأْتِهِ فَظَنَّ الْحَارِثُ أَنَّهُ قَدْ حَدَثَ فِيهِ سَخْطَةٌ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ فَدَعَا بِسَرَوَاتِ قَوْمِهِ فَقَالَ لَهُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ وَقَّتَ لِي وَقْتًا يُرْسِلُ إِلَيَّ رَسُولَهُ لِيَقْبِضَ مَا كَانَ عِنْدِي مِنْ الزَّكَاةِ وَلَيْسَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخُلْفُ وَلَا أَرَى حَبْسَ رَسُولِهِ إِلَّا مِنْ سَخْطَةٍ كَانَتْ فَانْطَلِقُوا فَنَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ إِلَى الْحَارِثِ لِيَقْبِضَ مَا كَانَ عِنْدَهُ مِمَّا جَمَعَ مِنْ الزَّكَاةِ فَلَمَّا أَنْ سَارَ الْوَلِيدُ حَتَّى بَلَغَ بَعْضَ الطَّرِيقِ فَرِقَ فَرَجَعَ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْحَارِثَ مَنَعَنِي الزَّكَاةَ وَأَرَادَ قَتْلِي فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَعْثَ إِلَى الْحَارِثِ فَأَقْبَلَ الْحَارِثُ بِأَصْحَابِهِ إِذْ اسْتَقْبَلَ الْبَعْثَ وَفَصَلَ مِنْ الْمَدِينَةِ لَقِيَهُمْ الْحَارِثُ فَقَالُوا هَذَا الْحَارِثُ فَلَمَّا غَشِيَهُمْ قَالَ لَهُمْ إِلَى مَنْ بُعِثْتُمْ قَالُوا إِلَيْكَ قَالَ وَلِمَ قَالُوا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بَعَثَ إِلَيْكَ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ فَزَعَمَ أَنَّكَ مَنَعْتَهُ الزَّكَاةَ وَأَرَدْتَ قَتْلَهُ قَالَ لَا وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ مَا رَأَيْتُهُ بَتَّةً وَلَا أَتَانِي فَلَمَّا دَخَلَ الْحَارِثُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنَعْتَ الزَّكَاةَ وَأَرَدْتَ قَتْلَ رَسُولِي قَالَ لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا رَأَيْتُهُ وَلَا أَتَانِي وَمَا أَقْبَلْتُ إِلَّا حِينَ احْتَبَسَ عَلَيَّ رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَشِيتُ أَنْ تَكُونَ كَانَتْ سَخْطَةً مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ قَالَ فَنَزَلَتْ الْحُجُرَاتُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ إِلَى هَذَا الْمَكَانِ فَضْلًا مِنْ اللَّهِ وَنِعْمَةً وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
حضرت حارث بن ضرار (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اسلام کی دعوت دی میں اسلام میں داخل ہوگیا اور اس کا اقرار کرلیا، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے زکوٰۃ دینے کی دعوت دی جس کا میں نے اقرار کرلیا اور عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں اپنی قوم میں واپس جا کر انہیں اسلام قبول کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی دعوت دیتا ہوں جو میرے اس دعوت کو قبول کرلے گا میں اس سے زکوٰۃ لے کر جمع کرلوں گا پھر فلاں وقت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس اپنا قاصد بھیج دیں تاکہ میں نے زکوٰۃ کی مد میں جو روپیہ جمع کر رکھا ہو وہ آپ تک پہنچادے۔ جب حضرت حارث (رض) نے اپنی دعوت قبول کرلینے والوں سے زکوٰۃ کا مال جمع کرلیا اور وہ وقت آگیا جس میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے انہوں نے قاصد بھیجنے کی درخواست کی تھی تو قاصد نہ آیاحارث (رض) یہ سمجھے کہ شاید کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے کوئی ناراضگی ہے چناچہ انہوں نے اپنی قوم کے چند سربرآوردہ لوگوں کو اکٹھا کیا اور انہیں بتایا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ایک وقت متعین کرکے بتایا تھا کہ اس میں وہ اپنا قاصد بھیج دیں گے جو میرے پاس جمع شدہ زکوٰۃ کا مال نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچادے گا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وعدہ خلافی نہیں ہوسکتی، میرا تو خیال ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنے قاصد کو روکنا شاید اللہ کی کسی ناراضگی کی وجہ سے ہے لہٰذا تم میرے ساتھ چلو تاکہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوں۔ ادھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ولید بن عقبہ کو بھیجا کہ حارث نے زکوٰۃ کا جو مال جمع کر رکھا ہے وہ لے آئیں جب ولید روانہ ہوئے تو راستے میں ہی انہیں خوف آنے لگا اور وہ کسی انجانے خوف سے ڈر کر واپس آگئے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا کر بہانہ بنادیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! حارث نے مجھے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا اور وہ مجھے قتل کرنے کے درپے ہوگیا تھا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوبارہ حارث کی طرف سے ایک دستہ روانہ فرمایا ادھرحارث اپنے ساتھیوں کے ساتھ آرہے تھے کہ اس دستے سے آمنا سامنا ہوگیا اور دستے کے لوگ کہنے لگے یہ رہاحارث، جب وہ قریب پہنچے تو حارث نے پوچھا کہ تم لوگ کہاں بھیجے گئے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ تمہاری ہی طرف حارث نے پوچھا وہ کیوں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہارے پاس ولید بن عقبہ کو بھیجا تھا ان کا کہنا ہے کہ تم نے انہیں زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا اور انہیں قتل کرنا چاہا تھا ؟ حارث نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں نے تو اسے کبھی دیکھا ہی نہیں اور نہ ہی وہ میرے پاس آیا۔ پھر جب حارث (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا کہ تم نے زکوٰۃ روک لی اور میرے قاصد کو قتل کرنا چاہا ؟ حارث نے جواب دیا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں نے تو اسے دیکھا تک نہیں اور نہ ہی وہ میرے پاس آیا اور میں تو آیا ہی اس وجہ سے ہوں کہ میرے پاس قاصد کے پہنچنے میں تاخیر ہوگئی تو مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں اللہ اور اس کی طرف سے ناراضگی نہ ہو اس موقع پر سورت حجرات کی یہ آیات |" اے اہل ایمان ! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے آئے۔۔۔۔۔۔ ۔۔ اور خوب جاننے والاحکمت والا ہے |" نازل ہوئیں۔
Top