مسند امام احمد - حضرت قیس بن ابی غرزہرضی اللہ عنہ کی حدیث - 17741
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ قَالَ كُنَّا نَبْتَاعُ الْأَوْسَاقَ بِالْمَدِينَةِ وَكُنَّا نُسَمِّي أَنْفُسَنَا السَّمَاسِرَةَ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمَّانَا بِاسْمٍ أَحْسَنَ مِمَّا كُنَّا نُسَمِّي أَنْفُسَنَا بِهِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّ هَذَا الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ اللَّغْوُ وَالْحَلِفُ فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ
حضرت قیس بن ابی غررہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور باسعادت میں ہم تاجروں کے پہلے سماسرہ (دلال) کہا جاتا تھا ایک نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس |" بقیع |" میں تشریف لائے اور فرمایا اے گروہ اے تجار ! نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں پہلے زیادہ عمدہ نام سے مخاطب کیا |" تجارت میں قسم اور جھوٹی باتیں بھی ہوجاتی ہیں لہٰذا اس میں صدقات و خیرات کی آمیزش کرلیا کرو۔
Top