مسند امام احمد - حضرت عبدالرحمن بن یعمر (رض) کی حدیثیں - 18026
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَعْمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ الْحَجِّ بِعَرَفَةَ فَقَالَ الْحَجُّ يَوْمُ عَرَفَةَ أَوْ عَرَفَاتٍ وَمَنْ أَدْرَكَ لَيْلَةَ جَمْعٍ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ أَيَّامُ مِنًى ثَلَاثَةٌ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ
حضرت عبدالرحمن بن یعمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرفہ کے دن حج کے متعلق پوچھا تو میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ حج تو ہوتا ہی عرفہ کے دن ہے جو شخص مزدلفہ کی رات نماز فجر ہونے سے پہلے بھی میدان عرفات کو پالے تو اس کا حج مکمل ہوگیا اور منٰی کے تین دن ہیں سو جو شخص پہلے ہی دو دن میں واپس آجائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو بعد میں آجائے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔
Top