مسند امام احمد - حضرت کیسان کی حدیثیں۔ - 14900
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ كَثِيرٍ الْمَكِّيُّ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ كَيْسَانَ مَوْلَى خَالِدِ بْنِ أُسَيْدٍ قُلْتُ أَلَا تُحَدِّثُنِي عَنْ أَبِيكَ فَقَالَ مَا سَأَلْتَنِي فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ الْمَطَابِخِ حَتَّى أَتَى الْبِئْرَ وَهُوَ مُتَّزِرٌ بِإِزَارٍ لَيْسَ عَلَيْهِ رِدَاءٌ فَرَأَى عِنْدَ الْبِئْرِ عَبِيدًا يُصَلُّونَ فَحَلَّ الْإِزَارَ وَتَوَشَّحَ بِهِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا أَدْرِي الظُّهْرَ أَوْ الْعَصْرَ
عمرو بن کثیر کہتے ہیں میں نے عبدالرحمن بن کیسان سے کہا کہ آپ مجھے اپنے والد کے حوالے سے کوئی حدیث کیوں نہیں سناتے انہوں نے کہا تم نے مجھ سے اس کی درخواست کی ہی کب ہے پھر کہنے لگے کہ میرے والد صاحب نے مجھے بتایا کہ انہوں نے ایک مرتبہ دیکھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مطبح سے نکلے کنویں پر پہنچے اس وقت آپ نے صرف تہبند باندھ رکھا تھا اوپر کی چادر آپ کے جسم مبارک پر نہ تھی کنویں کے پاس آپ نے چند غلاموں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپ نے تہبند کی گرہ کھول دی اور پانی کے چھینٹے مارے اور دو رکعتیں پڑھیں البتہ مجھے یہ یاد نہیں کہ وہ ظہر کی نماز تھی یا عصر کی۔
Top