مسند امام احمد - - حدیث نمبر 1461
حدیث نمبر: 2505
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُطَرِّفٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ وَجَدَ لُقَطَةً فَلْيُشْهِدْ ذَا عَدْلٍ أَوْ ذَوَيْ عَدْلٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ لَا يُغَيِّرْهُ وَلَا يَكْتُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا، ‏‏‏‏‏‏فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَإِلَّا فَهُوَ مَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ.
حاجی کی دعا کی فضیلت۔
صفوان بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ان کی زوجیت میں ابوالدرداء ؓ کی صاحبزادی تھیں، وہ ان کے پاس گئے، وہاں ام الدرداء یعنی ساس کو پایا، ابو الدرداء کو نہیں، ام الدرداء نے ان سے پوچھا: کیا تمہارا امسال حج کا ارادہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، تو انہوں نے کہا: ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے خیر کی دعا کرنا، اس لیے کہ نبی اکرم ﷺ فرماتے تھے: آدمی کی وہ دعا جو وہ اپنے بھائی کے لیے اس کے غائبانے میں کرتا ہے قبول کی جاتی ہے، اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ ہوتا ہے، جو اس کی دعا پر آمین کہتا ہے، جب وہ اس کے لیے خیر کی دعا کرتا ہے تو وہ آمین کہتا ہے، اور کہتا ہے: تیرے لیے بھی ایسا ہی ہو ۔ صفوان ؓ کہتے ہیں کہ پھر میں بازار کی طرف چلا گیا، تو میری ملاقات ابو الدرداء ؓ سے ہوئی تو انہوں نے بھی مجھ سے اسی کے مثل نبی اکرم ﷺ سے بیان کیا۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الذکر والدعاء ٢٣ (٢٧٣٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٩٣٩) (صحیح )
Top