مسند امام احمد - حضرت قیس بن سعد بن عبادہ کی حدیثیں۔ - 14930
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ يَقُولُ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ زَارَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنْزِلِنَا فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ قَالَ فَرَدَّ سَعْدٌ رَدًّا خَفِيًّا فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّبَعَهُ سَعْدٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ كُنْتُ أَسْمَعُ تَسْلِيمَكَ وَأَرُدُّ عَلَيْكَ رَدًّا خَفِيًّا لِتُكْثِرَ عَلَيْنَا مِنْ السَّلَامِ قَالَ فَانْصَرَفَ مَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ لَهُ سَعْدٌ بِغُسْلٍ فَوُضِعَ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ نَاوَلَهُ أَوْ قَالَ نَاوَلُوهُ مِلْحَفَةً مَصْبُوغَةً بِزَعْفَرَانٍ وَوَرْسٍ فَاشْتَمَلَ بِهَا ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَرَحْمَتَكَ عَلَى آلِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ ثُمَّ أَصَابَ مِنْ الطَّعَامِ فَلَمَّا أَرَادَ الِانْصِرَافَ قَرَّبَ إِلَيْهِ سَعْدٌ حِمَارًا قَدْ وَطَّأَ عَلَيْهِ بِقَطِيفَةٍ فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَعْدٌ يَا قَيْسُ اصْحَبْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَيْسٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْكَبْ فَأَبَيْتُ ثُمَّ قَالَ إِمَّا أَنْ تَرْكَبَ وَإِمَّا أَنْ تَنْصَرِفَ قَالَ فَانْصَرَفْتُ
حضرت قیس بن سعد سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے گھر تشریف لائے اور باہر سے سلام کیا حضرت سعد میرے والد نے آہستہ سے جواب دیا اس پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس جانے لگے تو حضرت سعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے بھاگے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ میں نے آپ کا سلام سنلیا تھا اور جواب بھی دیا تھا لیکن آہستہ آواز سے تاکہ آپ زیادہ سے زیادہ ہمارے لئے سلامتی کی دعا کریں۔
پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت سعد کے ساتھ واپس آگئے حضرت سعد نے غسل کا پانی رکھنے کا حکم دیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غسل کیا پھر فرمایا لحاف لاؤ اس لحاف کو زعفران اور ورس سے رنگا گیا تھا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ اوڑھ لیا اور ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی کے اے اللہ آل سعد بن عبادہ پر اپنی رحمتوں اور برکتوں کا نزول فرما اس کے بعد کچھ کھانا تناول فرمایا واپسی کا ارادہ کیا تو حضرت سعد ایک گدھا لے کر آئے جس پر انہوں نے چادر ڈال رکھی تھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر سوار ہوئے تو والد صاحب نے مجھ سے کہا قیس تم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جاؤ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اپنے ساتھ سوار ہونے کے لئے کہا لیکن میں نے ادبا انکار کردیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم یا تو سوار ہوجاؤ یا واپس چلے جاؤ چناچہ میں واپس آگیا۔
Top