مسند امام احمد - حضرت عویم بن ساعدہ کی حدیث۔ - 14940
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلٌ عَنْ عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُمْ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدْ أَحْسَنَ عَلَيْكُمْ الثَّنَاءَ فِي الطُّهُورِ فِي قِصَّةِ مَسْجِدِكُمْ فَمَا هَذَا الطُّهُورُ الَّذِي تَطَّهَّرُونَ بِهِ قَالُوا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا نَعْلَمُ شَيْئًا إِلَّا أَنَّهُ كَانَ لَنَا جِيرَانٌ مِنْ الْيَهُودِ فَكَانُوا يَغْسِلُونَ أَدْبَارَهُمْ مِنْ الْغَائِطِ فَغَسَلْنَا كَمَا غَسَلُوا
حضرت عویم بن ساعدہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے یہاں مسجد قبا میں تشریف لائے اور فرمایا اللہ نے تمہاری مسجد کے واقعے میں تمہاری طہارت کی خوب تعریف فرمائی ہے وہ کیا طریقہ ہے جو تم طہارت میں اختیار کرتے ہو اہل قباء نے عرض کیا یا رسول اللہ واللہ ہمیں تو کچھ معلوم نہیں البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ ہمارے کچھ پڑوسی یہودی ہیں وہ بیت الخلاء میں اپنی شرمگاہوں کو پانی سے دھوتے ہیں ہم بھی ان کی دیکھا دیکھی پانی استعمال کرنے لگے ہیں۔
Top