Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (20987 - 21123)
Select Hadith
20987
20988
20989
20990
20991
20992
20993
20994
20995
20996
20997
20998
20999
21000
21001
21002
21003
21004
21005
21006
21007
21008
21009
21010
21011
21012
21013
21014
21015
21016
21017
21018
21019
21020
21021
21022
21023
21024
21025
21026
21027
21028
21029
21030
21031
21032
21033
21034
21035
21036
21037
21038
21039
21040
21041
21042
21043
21044
21045
21046
21047
21048
21049
21050
21051
21052
21053
21054
21055
21056
21057
21058
21059
21060
21061
21062
21063
21064
21065
21066
21067
21068
21069
21070
21071
21072
21073
21074
21075
21076
21077
21078
21079
21080
21081
21082
21083
21084
21085
21086
21087
21088
21089
21090
21091
21092
21093
21094
21095
21096
21097
21098
21099
21100
21101
21102
21103
21104
21105
21106
21107
21108
21109
21110
21111
21112
21113
21114
21115
21116
21117
21118
21119
21120
21121
21122
21123
مسند امام احمد - حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات - حدیث نمبر 23050
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ صُهَيْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ مَلِكٌ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ وَكَانَ لَهُ سَاحِرٌ فَلَمَّا كَبِرَ السَّاحِرُ قَالَ لِلْمَلِكِ إِنِّي قَدْ كَبِرَتْ سِنِّي وَحَضَرَ أَجَلِي فَادْفَعْ إِلَيَّ غُلَامًا فَلَأُعَلِّمُهُ السِّحْرَ فَدَفَعَ إِلَيْهِ غُلَامًا فَكَانَ يُعَلِّمُهُ السِّحْرَ وَكَانَ بَيْنَ السَّاحِرِ وَبَيْنَ الْمَلِكِ رَاهِبٌ فَأَتَى الْغُلَامُ عَلَى الرَّاهِبِ فَسَمِعَ مِنْ كَلَامِهِ فَأَعْجَبَهُ نَحْوُهُ وَكَلَامُهُ فَكَانَ إِذَا أَتَى السَّاحِرَ ضَرَبَهُ وَقَالَ مَا حَبَسَكَ وَإِذَا أَتَى أَهْلَهُ ضَرَبُوهُ وَقَالُوا مَا حَبَسَكَ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى الرَّاهِبِ فَقَالَ إِذَا أَرَادَ السَّاحِرُ أَنْ يَضْرِبَكَ فَقُلْ حَبَسَنِي أَهْلِي وَإِذَا أَرَادَ أَهْلُكَ أَنْ يَضْرِبُوكَ فَقُلْ حَبَسَنِي السَّاحِرُ وَقَالَ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أَتَى ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى دَابَّةٍ فَظِيعَةٍ عَظِيمَةٍ وَقَدْ حَبَسَتْ النَّاسَ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يَجُوزُوا فَقَالَ الْيَوْمَ أَعْلَمُ أَمْرُ الرَّاهِبِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ أَمْ أَمْرُ السَّاحِرِ فَأَخَذَ حَجَرًا فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَمْرُ الرَّاهِبِ أَحَبَّ إِلَيْكَ وَأَرْضَى لَكَ مِنْ السَّاحِرِ فَاقْتُلْ هَذِهِ الدَّابَّةَ حَتَّى يَجُوزَ النَّاسُ وَرَمَاهَا فَقَتَلَهَا وَمَضَى النَّاسُ فَأَخْبَرَ الرَّاهِبَ بِذَلِكَ فَقَالَ أَيْ بُنَيَّ أَنْتَ أَفْضَلُ مِنِّي وَإِنَّكَ سَتُبْتَلَى فَإِنْ ابْتُلِيتَ فَلَا تَدُلَّ عَلَيَّ فَكَانَ الْغُلَامُ يُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَسَائِرَ الْأَدْوَاءِ وَيَشْفِيهِمْ وَكَانَ جَلِيسٌ لِلْمَلِكِ فَعَمِيَ فَسَمِعَ بِهِ فَأَتَاهُ بِهَدَايَا كَثِيرَةٍ فَقَالَ اشْفِنِي وَلَكَ مَا هَاهُنَا أَجْمَعُ فَقَالَ مَا أَشْفِي أَنَا أَحَدًا إِنَّمَا يَشْفِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنْ أَنْتَ آمَنْتَ بِهِ فَدَعَوْتُ اللَّهَ فَشَفَاكَ فَآمَنَ فَدَعَا اللَّهَ لَهُ فَشَفَاهُ ثُمَّ أَتَى الْمَلِكَ فَجَلَسَ مِنْهُ نَحْوَ مَا كَانَ يَجْلِسُ فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ يَا فُلَانُ مَنْ رَدَّ عَلَيْكَ بَصَرَكَ فَقَالَ رَبِّي قَالَ أَنَا قَالَ لَا لَكِنْ رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ قَالَ أَوَلَكَ رَبٌّ غَيْرِي قَالَ نَعَمْ فَلَمْ يَزَلْ يُعَذِّبُهُ حَتَّى دَلَّهُ عَلَى الْغُلَامِ فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَقَالَ أَيْ بُنَيَّ قَدْ بَلَغَ مِنْ سِحْرِكَ أَنْ تُبْرِئَ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ وَهَذِهِ الْأَدْوَاءَ قَالَ مَا أَشْفِي أَنَا أَحَدًا مَا يَشْفِي غَيْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ أَنَا قَالَ لَا قَالَ أَوَلَكَ رَبٌّ غَيْرِي قَالَ نَعَمْ رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ فَأَخَذَهُ أَيْضًا بِالْعَذَابِ فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى دَلَّ عَلَى الرَّاهِبِ فَأَتَى بِالرَّاهِبِ فَقَالَ ارْجِعْ عَنْ دِينِكِ فَأَبَى فَوَضَعَ الْمِنْشَارَ فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ حَتَّى وَقَعَ شِقَّاهُ وَقَالَ لِلْأَعْمَى ارْجِعْ عَنْ دِينِكَ فَأَبَى فَوَضَعَ الْمِنْشَارَ فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ حَتَّى وَقَعَ شِقَّاهُ فِي الْأَرْضِ وَقَالَ لِلْغُلَامِ ارْجِعْ عَنْ دِينِكَ فَأَبَى فَبَعَثَ بِهِ مَعَ نَفَرٍ إِلَى جَبَلِ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ إِذَا بَلَغْتُمْ ذُرْوَتَهُ فَإِنْ رَجَعَ عَنْ دِينِهِ وَإِلَّا فَدَهْدِهُوهُ مِنْ فَوْقِهِ فَذَهَبُوا بِهِ فَلَمَّا عَلَوْا بِهِ الْجَبَلَ قَالَ اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ فَرَجَفَ بِهِمْ الْجَبَلُ فَدُهْدِهُوا أَجْمَعُونَ وَجَاءَ الْغُلَامُ يَتَلَمَّسُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى الْمَلِكِ فَقَالَ مَا فَعَلَ أَصْحَابُكَ فَقَالَ كَفَانِيهِمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَبَعَثَهُ مَعَ نَفَرٍ فِي قُرْقُورٍ فَقَالَ إِذَا لَجَجْتُمْ بِهِ الْبَحْرَ فَإِنْ رَجَعَ عَنْ دِينِهِ وَإِلَّا فَغَرِّقُوهُ فَلَجَّجُوا بِهِ الْبَحْرَ فَقَالَ الْغُلَامُ اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ فَغَرِقُوا أَجْمَعُونَ وَجَاءَ الْغُلَامُ يَتَلَمَّسُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى الْمَلِكِ فَقَالَ مَا فَعَلَ أَصْحَابُكَ قَالَ كَفَانِيهِمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ قَالَ لِلْمَلِكِ إِنَّكَ لَسْتَ بِقَاتِلِي حَتَّى تَفْعَلَ مَا آمُرُكَ بِهِ فَإِنْ أَنْتَ فَعَلْتَ مَا آمُرُكَ بِهِ قَتَلْتَنِي وَإِلَّا فَإِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ قَتْلِي قَالَ وَمَا هُوَ قَالَ تَجْمَعُ النَّاسَ فِي صَعِيدٍ ثُمَّ تَصْلُبُنِي عَلَى جِذْعٍ فَتَأْخُذُ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِي ثُمَّ قُلْ بِسْمِ اللَّهِ رَبِّ الْغُلَامِ فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ قَتَلْتَنِي فَفَعَلَ وَوَضَعَ السَّهْمَ فِي كَبِدِ قَوْسِهِ ثُمَّ رَمَى فَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ رَبِّ الْغُلَامِ فَوَضَعَ السَّهْمَ فِي صُدْغِهِ فَوَضَعَ الْغُلَامُ يَدَهُ عَلَى مَوْضِعِ السَّهْمِ وَمَاتَ فَقَالَ النَّاسُ آمَنَّا بِرَبِّ الْغُلَامِ فَقِيلَ لِلْمَلِكِ أَرَأَيْتَ مَا كُنْتَ تَحْذَرُ فَقَدْ وَاللَّهِ نَزَلَ بِكَ قَدْ آمَنَ النَّاسُ كُلُّهُمْ فَأَمَرَ بِأَفْوَاهِ السِّكَكِ فَخُدِّدَتْ فِيهَا الْأُخْدُودُ وَأُضْرِمَتْ فِيهَا النِّيرَانُ وَقَالَ مَنْ رَجَعَ عَنْ دِينِهِ فَدَعُوهُ وَإِلَّا فَأَقْحِمُوهُ فِيهَا قَالَ فَكَانُوا يَتَعَادَوْنَ فِيهَا وَيَتَدَافَعُونَ فَجَاءَتْ امْرَأَةٌ بِابْنٍ لَهَا تُرْضِعُهُ فَكَأَنَّهَا تَقَاعَسَتْ أَنْ تَقَعَ فِي النَّارِ فَقَالَ الصَّبِيُّ يَا أُمَّهْ اصْبِرِي فَإِنَّكِ عَلَى الْحَقِّ
حضرت صہیب ؓ کی حدیثیں
حضرت صہیب ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم سے پہلی (قوموں میں) ایک بادشاہ تھا جس کے پاس ایک جادوگر تھا جب وہ جادوگر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں اور میرا آخری وقت قریب آرہا ہے تو آپ میری پاس ایک لڑکے کو بھیج دیں تاکہ میں اسے جادو سکھا دوں بادشاہ نے ایک لڑکا جادو سیکھنے کے لئے اس بوڑھے جادوگر کی طرف بھیج دیا اور وہ اسے جادو سکھانے لگا اس کے راستے میں ایک راہب تھا تو وہ لڑکا اس راہب کے پاس بیٹھا اور اس کی باتیں سننے لگا جو کہ اسے پسند آئیں پھر جب وہ بھی جادوگر کے پاس آتا اور راہب کے پاس سے گذرتا تو اس کے پاس بیٹھتا (دیر سے آنے کی وجہ سے) جادوگر اس لڑکے کو مارتا اس لڑکے نے اس کی شکایت راہب سے کی تو راہب نے کہا کہ اگر تجھے جادوگر سے ڈر ہو تو کہہ دیا کر کہ مجھے میرے گھر والوں نے (کسی کام کے لئے) روک لیا تھا اور جب تجھے گھر والوں سے ڈر ہو تو کہہ دیا کر کہ مجھے جادوگر نے روک لیا تھا۔ اسی دوران ایک بہت بڑے درندے نے لوگوں کا راستہ روک لیا (جب لڑکا اس طرف آیا) تو اس نے کہا میں آج جاننا چاہوں گا کہ جادوگر کا کام اللہ کا زیادہ پسند ہے یا راہب کا؟ اور پھر ایک پتھر پکڑا اور کہنے لگا اے اللہ! اگر تجھے جادوگر کے معاملے سے راہب کا معاملہ زیادہ پسندیدہ ہے تو اس درندے کا مار دے تاکہ (یہاں راستہ سے) لوگوں کا آناجانا (شروع) ہو اور پھر وہ پتھر اس درندے کو مار کر اسے قتل کردیا اور لوگ گذرنے لگے پھر وہ لڑکا راہب کے پاس آیا اور اسے اس کی خبر دی تو راہب نے اس لڑکے سے کہا اے بیٹے! آج تو مجھ سے افضل ہے کیونکہ تیرا معاملہ اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ جس کی وجہ سے تو عنقریب ایک مصیبت میں مبتلا کردیا جائے گا پھر اگر تو کسی مصیبت میں مبتلا ہوجائے تو میرے متعلق کسی کو نہ بتانا وہ لڑکا پیدائشی اندھے اور کوڑھی کو صحیح کردیتا تھا بلکہ لوگوں کی ہر بیماری کا علاج کردیتا تھا بادشاہ کا ایک ہم نشین اندھا ہوگیا اس نے لڑکے کے بارے میں سنا تو وہ بہت سے تحفے لے کر اس کے پاس آیا اور اسے کہنے لگا اگر تم مجھے شفا دے دو تو یہ سارے تحفے جو میں یہاں لے کر آیا ہوں وہ سارے تمہارے لئے ہیں اس لڑکے نے کہا میں تو کسی کو شفا نہیں دے سکتا بلکہ شفاء تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے اگر تو اللہ پر ایمان لے آئے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ وہ تجھے شفا دے دے پھر وہ (شخص) اللہ پر ایمان لے آیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے شفا عطا فرما دی۔ پھر وہ آدمی (جسے شفا ہوئی) بادشاہ کے پاس آیا اور اس کے پاس بیٹھ گیا جس طرح کہ وہ پہلے بیٹھا کرتا تھا بادشاہ نے اس سے کہا کہ کس نے تجھے تیری بینائی واپس لوٹا دی؟ اس نے کہا میرے رب نے اس نے کہا کیا میرے علاوہ تیرا اور کوئی رب بھی ہے؟ اس نے کہا میرا اور تیرا رب اللہ ہے پھر بادشاہ اس کو پکڑ کر اسے عذاب دینے لگا تو اس نے بادشاہ کو اس لڑکے کے بارے میں بتادیا (اس لڑکے کو بلایا گیا) پھر جب وہ لڑکا آیا تو بادشاہ نے اس لڑکے سے کہا اے بیٹے! کیا تیرا جادو اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ اب تو مادرزاد اندھے اور کوڑھی کو بھی صحیح کرنے لگ گیا ہے؟ اور ایسے ایسے کرتا ہے؟ لڑکے نے کہا میں تو کسی کو شفاء نہیں دیتا بلکہ شفاء تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے بادشاہ نے اسے پکڑ کر عذاب دیا یہاں تک کہ اس نے راہب کے بارے میں بادشاہ کو بتادیا (پھر راہب کو بلوایا گیا) راہب آیا تو اس سے کہا گیا کہ تو اپنے مذہب سے پھر جا۔ راہب نے انکار کردیا پھر بادشاہ نے آرہ منگوایا اور اس راہب کے سر پر رکھ کر اس کا سر چیر کر اس کے دو ٹکڑے کردیئے پھر بادشاہ کے ہم نشین کو لایا گیا اور اس سے بھی کہا، گیا کہ تو اپنے مذہب سے پھر جا۔ اس نے بھی انکار کردیا بادشاہ نے اس کے سر پر بھی آرہ رکھ کر سر کو چیر کر اس کے دو ٹکڑے کروا دیئے ( پھر اس لڑکے کو بلایا گیا) وہ آیا تو اس سے بھی یہی کہا گیا کہ اپنے مذہب سے پھر جا اس نے بھی انکار کردیا تو بادشاہ نے اس لڑکے کو اپنے کچھ ساتھیوں کے حوالے کر کے کہا کہ اسے فلاں پہاڑ پر لے جاؤ اور اسے اس پہاڑ کی چوٹی پر چڑھاؤ اگر یہ اپنے مذہب سے پھر جائے تو اسے چھوڑ دینا اور اگر انکار کر دے تو اسے پہاڑ کی چوٹی سے نیچے پھینک دینا۔ چنانچہ بادشاہ کے ساتھی اس لڑکے کو پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے تو اس لڑکے نے کہا اے اللہ جس طرح تو چاہے مجھے ان سے بچا لے اس پہاڑ پر فوراً ایک زلزلہ آیا جس سے بادشاہ کے وہ سارے ساتھی گرگئے اور وہ لڑکاچلتے ہوئے بادشاہ کی طرف آگیا بادشاہ نے اس لڑکے سے پوچھا کہ تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا؟ لڑکے نے کہا اللہ پاک نے مجھے ان سے بچا لیا ہے۔ بادشاہ نے پھر اس لڑکے کو اپنے کچھ ساتھیوں کے حوالے کر کے کہا اسے ایک چھوٹی کشتی میں لے جاکر سمندر کے درمیان میں پھینک دینا اگر یہ اپنے مذہب سے نہ پھرے بادشاہ کے ساتھی اس لڑکے کو لے گئے تو اس لڑکے نے کہا اے اللہ تو جس طرح چاہے مجھے ان سے بچا لے پھر وہ کشتی بادشاہ کے ان ساتھیوں سمیت الٹ گئی اور وہ سارے کے سارے غرق ہوگئے اور وہ لڑکاچلتے ہوئے بادشاہ کی طرف آگیا بادشاہ نے اس لڑکے سے کہا تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا؟ اس نے کہا اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بچالیا ہے پھر اس لڑکے نے بادشاہ سے کہا تو مجھے قتل نہیں کرسکتا جب تک کہ اس طرح نہ کرے جس طرح میں تجھے حکم دوں بادشاہ نے کہا وہ کیا؟ اس لڑکے نے کہا سارے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کرو اور مجھے سولی کے تختے پر لٹکاؤ پھر میرے ترکش سے ایک تیر پکڑو پھر اس تیر کو کمان کے چلہ میں رکھو اور پھر کہو! اس اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے پھر وہ تیر اس لڑکے کو مارا تو وہ تیر اس لڑکے کی کنپٹی میں جا گھسا تو لڑکے نے اپنا ہاتھ تیر لگنے والی جگہ پر رکھا اور مرگیا یہ دیکھتے ہی سب لوگوں نے کہا ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے بادشاہ کو اس کی خبر دی گئی اور اس سے کہا گیا تجھے جس بات کا ڈر تھا اب وہی بات آن پہنچی کہ لوگ ایمان لے آئے تو پھر بادشاہ نے گلیوں کے دھانوں پر خندق کھودنے کا حکم دیا چناچہ خندق کھودی گئی اور ان خندقوں میں آگ جلا دی گئی بادشاہ نے کہا جو آدمی اپنے مذہب سے پھرنے سے باز نہیں آئے گا تو میں اس آدمی کو اس خندق میں ڈلوا دوں گا (جو لوگ اپنے مذہب پر پھرنے سے باز نہ آئے) تو انہیں خندق میں ڈال دیا گیا یہاں تک کہ ایک عورت آئی اور اس کے ساتھ ایک بچہ بھی تھا وہ عورت خندق میں گرنے سے گھبرائی تو اس عورت کے بچے نے کہا اماں جان! صبر کیجئے کیونکہ آپ حق پر ہیں۔
Top