مسند امام احمد - حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات - حدیث نمبر 4045
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالَتِهَا أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ مِنْ صِبْيَانِ الْأَنْصَارِ فَصَلَّى عَلَيْهِ،‏‏‏‏ قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ طُوبَى لِهَذَا عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ لَمْ يَعْمَلْ سُوءًا وَلَمْ يُدْرِكْهُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ أَوَ غَيْرُ ذَلِكَ يَا عَائِشَةُ، ‏‏‏‏‏‏خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ وَخَلَقَ لَهَا أَهْلًا وَخَلَقَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَخَلَقَ النَّارَ وَخَلَقَ لَهَا أَهْلًا وَخَلَقَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ.
بچوں پر نماز پڑھنے سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ انصار کے بچوں میں سے ایک بچہ رسول اللہ کے پاس لایا گیا، تو آپ نے اس کی جنازے کی نماز پڑھی، میں نے کہا: (یہ) خوش بخت جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے، نہ تو اس نے کوئی برا کام کیا، اور نہ اس عمر ؓ کو پہنچا، آپ نے فرمایا: یا عائشہ! اس کے علاوہ کچھ اور معاملہ ہے اللہ تعالیٰ نے جنت کی تخلیق فرمائی، اور اس کے لیے لوگ پیدا کئے، جبکہ اپنے باپوں کی پشت میں تھے، اور (اللہ) نے جہنم کی تخلیق کی، اور اس کے لیے لوگ پیدا کیے جبکہ وہ اپنے باپوں کی پشت میں تھے ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/القدر ٦ (٢٦٦٢)، سنن ابی داود/السنة ١٨ (٤٧١٣)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٠ (٨٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٧٣)، مسند احمد ٦/٤١، ٢٠٨ (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: اور وہ توقف ہے، لیکن یہ پہلے کی بات ہے، بعد میں آپ نے یہ بتایا کہ مسلمانوں کے نابالغ بچے جنت میں جائیں گے، البتہ کفار و مشرکین کے بچوں کی بابت جمہور کا موقف یہی ہے کہ ان کے بارے میں توقف اختیار کیا جائے، دیکھئیے حدیث رقم: ١٩٥١ ، ١٩٥٣ ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1947
Top