مشکوٰۃ المصابیح - شرکت اور وکالت کا بیان - حدیث نمبر 2090
وَعَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَا مِنْکُمْ مِّنْ اَحَدٍ اِلَّا وَقَدْ کُتِبَ مَقْعَدُہ، مِنَ النَّارِ وَمَقْعَدُہ، مِنَ الْجَنَّۃِ قَالُوْا ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَفَلَا نَتَوَکَّلُ عَلٰی کِتَابِنَا وَنَدَعُ الْعَمَلَ قَالَ اعْمَلُوْا فَکُلُّ مُّےَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَہُ اَمَّا مَنْ کَانَ مِنْ اَھْلِ السَّعَادَۃِ فَسَےُےَسَّرُ لِعَمَلِ السَّعَادَۃِ وَاَمَّا مَنْ کَانَ مِنْ اَھْلِ الشِّقَاوَۃِ فَسَےُےَسَّرُ لِعَمَلِ الشَّقَاوَۃِ ثُمَّ قَرَأَ&& فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی الاےۃ&&(پ٣٠۔رکوع ١٧) (صحیح البخاری و صحیح مسلم )7-58
روزہ دار کے سامنے کھانا
حضرت بریدہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت بلال ؓ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ صبح کا کھانا کھا رہے تھے۔ چناچہ رسول کریم ﷺ نے حضرت بلال سے فرمایا کہ بلال آؤ کھانا کھاؤ! حضرت بلال نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! میں روزہ سے ہوں آپ ﷺ نے فرمایا ہم تو اپنا رزق یہاں کھا رہے ہیں اور بلال ؓ کا بہترین رزق جنت میں ہے بلال کیا تم جانتے ہو کہ جب روزہ دار کے سامنے کھانا کھایا جاتا ہے تو روزہ دار کی ہڈیاں تسبیح کرتی ہیں۔ اور فرشتے اس کے لئے بخشش چاہتے ہیں جب تک کہ اس کے سامنے کھایا جاتا ہے۔ (بیہقی)
Top