مسند امام احمد - - حدیث نمبر 1147
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى الْبَصْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ كَثِيرٍ أَبُو سَهْلٍ الْأَزْدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ صَلَّى إِلَى جَنْبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ بِمِنًى فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ فَكَانَإِذَا سَجَدَ السَّجْدَةَ الْأُولَى فَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنْهَا رَفَعَ يَدَيْهِ تِلْقَاءَ وَجْهِهِفَأَنْكَرْتُ أَنَا ذَلِكَ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ لِوُهَيْبِ بْنِ خَالِدٍ إِنَّ هَذَا يَصْنَعُ شَيْئًا لَمْ أَرَ أَحَدًا يَصْنَعُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ:‏‏‏‏ وَهَيْبٌ تَصْنَعُ شَيْئًا لَمْ نَرَ أَحَدًا يَصْنَعُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ أَبِي يَصْنَعُهُ وَقَالَ أَبِي:‏‏‏‏ رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَصْنَعُهُ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ.
چہرہ کے سامنے دونوں ہاتھ اٹھانے سے متعلق
نضر بن کثیر ابوسہل ازدی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن طاؤس نے منیٰ میں مسجد خیف میں میرے پہلو میں نماز پڑھی، تو انہوں نے جب پہلا سجدہ کیا، اور سجدے سے اپنا سر اٹھایا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو چہرے کے بالمقابل اٹھایا، مجھے یہ بات عجیب لگی تو میں نے وہیب بن خالد سے کہا کہ یہ ایسا کام کر رہے ہیں جو میں نے کبھی کسی کو کرتے نہیں دیکھا؟، تو وہیب نے ان سے کہا: آپ ایسا کام کرتے ہیں جسے ہم نے کسی کو کرتے نہیں دیکھا؟ اس پر عبداللہ بن طاؤس نے کہا: میں نے اپنے والد کو ایسا کرتے دیکھا ہے، اور میرے والد نے کہا: میں نے عبداللہ بن عباس ؓ کو ایسا کرتے دیکھا ہے، اور عبداللہ بن عباس ؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة ١١٧ (٧٤٠)، (تحفة الأشراف: ٥٧١٩) (صحیح) (اس کے راوی " نضر بن کثیر " ضعیف ہیں، لیکن شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح لغیرہ ہے )
قال الشيخ الألباني: صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1146
Top