مسند امام احمد - حضرت ہند بن اسماء اسلمی کی حدیثیں۔ - حدیث نمبر 2115
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ الْمَكِّيُّ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ فَتَوَضَّأَ، ‏‏‏‏‏‏فَلْيَسْتَنْثِرْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَبِيتُ عَلَى خَيْشُومِهِ.
بیدار ہونے کے بعد ناک صاف کرنے کا بیان
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نیند سے جاگ کر وضو کرے تو (پانی لے کر) تین مرتبہ ناک جھاڑے، کیونکہ شیطان اس کے پانسے میں رات گزارتا ہے ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/بدء الخلق ١١ (٣٢٩٥)، صحیح مسلم/الطہارة ٨ (٢٣٨)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٨٤)، مسند احمد ٢/٣٥٢ (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: اسے حقیقت پر محمول کرنا ہی راجح اور اولیٰ ہے، اس لیے کہ یہ جسم کے منافذ میں سے ایک ہے جس سے شیطان دل تک پہنچتا ہے، استنثار سے مقصود اس کے اثرات کا ازالہ ہے، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں مجازی معنی مقصود ہے، وہ یہ کہ غبار اور رطوبت (جو ناک میں جمع ہو کر گندگی کا سبب بنتے ہیں) کو شیطان سے تعبیر کیا گیا ہے، کیونکہ پانسے گندگی جمع ہونے کی جگہ ہیں جو شیطان کے رات گزارنے کے لیے زیادہ مناسب ہیں، لہٰذا انسان کے لیے یہ مناسب ہے کہ اسے صاف کرلے تاکہ اس کے اثرات زائل ہوجائیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 90
Top