مشکوٰۃ المصابیح - جن چیزوں سے محرم کو بچناچاہئے ان کا بیان - حدیث نمبر 5958
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا خَالِدٌ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قال:‏‏‏‏ فِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةٌ فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ وَمَا أَخْفَاهَا أَخْفَيْنَا مِنْكُمْ.
دن کے وقت نماز میں قرأت آہستہ کرنی چاہئے
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہر نماز میں قرآت ہے، تو جسے رسول اللہ نے ہمیں سنایا ہم تمہیں سنا رہے ہیں، اور جسے آپ نے ہم سے چھپایا ہم تم سے چھپا رہے ہیں ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان ١٠٤ (٧٧٢)، صحیح مسلم/الصلاة ١١ (٣٩٦)، (تحفة الأشراف: ١٤١٩٠)، مسند احمد ٢/٢٧٣، ٢٨٥، ٣٤٨، ٤٨٧ (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: یعنی جس میں آپ نے جہر سے قرات کی ہم بھی اس میں جہر سے قرات کرتے ہیں، اور جس میں آپ نے سرّی قرات کی اس میں ہم بھی سرّی قرات کرتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 970
Top