سنن الترمذی - جنت کی صفات کا بیان - حدیث نمبر 1800
حدیث نمبر: 2643
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ ؟ قُلْتُ:‏‏‏‏ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنَّ حَقَّهُ عَلَيْهِمْ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَتَدْرِي مَا حَقُّهُمْ عَلَيْهِ إِذَا فَعَلَوْا ذَلِكَ ؟ قُلْتُ:‏‏‏‏ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ ،‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ.
امت میں افتراق کے متعلق
معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ بندوں پر اللہ کا حق کیا ہے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اس کا حق بندوں پر یہ ہے کہ بندے اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ۔ (پھر) آپ نے کہا: کیا تم یہ بھی جانتے ہو کہ جب لوگ ایسا کریں تو اللہ پر ان کا کیا حق ہے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ان کا حق اللہ پر یہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث متعدد سندوں سے معاذ بن جبل ؓ سے مروی ہے۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجھاد ٤٦ (٢٨٥٦)، واللباس ١٠١ (٥٩٦٧)، والاستئذان ٣٠ (٦٢٦٧)، والرقاق ٣٧ (٦٥٠٠)، والتوحید ١ (٧٣٧٣)، صحیح مسلم/الإیمان ١٠ (٣٠)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٥ (٤٢٩٦) (تحفة الأشراف: ١١٣٥١) (صحیح )
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (4296)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2643
Top