مشکوٰۃ المصابیح - - حدیث نمبر 812
حدیث نمبر: 812
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى رَبِيعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ الْبَاهِلِيِّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ مَلَكَ زَادًا وَرَاحِلَةً تُبَلِّغُهُ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ وَلَمْ يَحُجَّ فَلَا عَلَيْهِ أَنْ يَمُوتَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا، ‏‏‏‏‏‏وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ:‏‏‏‏ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلا سورة آل عمران آية 97 . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهِلَالُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَجْهُولٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَارِثُ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ.
ترک حج کی مذمت
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: سفر کے خرچ اور سواری کا مالک ہو جو اسے بیت اللہ تک پہنچا سکے اور وہ حج نہ کرے تو اس میں کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہو کر، اور یہ اس لیے کہ اللہ نے اپنی کتاب (قرآن) میں فرمایا ہے: اللہ کے لیے بیت اللہ کا حج کرنا لوگوں پر فرض ہے جو اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ١- یہ حدیث غریب ہے ١ ؎، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- اس کی سند میں کلام ہے۔ ہلال بن عبداللہ مجہول راوی ہیں۔ اور حارث حدیث میں ضعیف گردانے جاتے ہیں۔
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (ضعیف) (سند میں ہلال اور حارث اعور دونوں ضعیف راوی ہیں)
وضاحت: ١ ؎: ضعیف ہے، مگر علی ؓ کے اپنے قول سے صحیح ہے، اور ایسی بات کوئی صحابی اپنی رائے سے نہیں کہہ سکتا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشکاة (2521)، التعليق الرغيب (2 / 134) // ضعيف الجامع الصغير (5860) //
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 812
Top