سنن الترمذی - خرید وفروخت کا بیان - 1218
حدیث نمبر: 1205
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَبَيْنَ ذَلِكَ أُمُورٌ مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَدْرِي كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏أَمِنَ الْحَلَالِ هِيَ أَمْ مِنَ الْحَرَامِ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ تَرَكَهَا اسْتِبْرَاءً لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَدْ سَلِمَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ وَاقَعَ شَيْئًا مِنْهَا يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَ الْحَرَامَ، ‏‏‏‏‏‏كَمَا أَنَّهُ مَنْ يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى، ‏‏‏‏‏‏يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى، ‏‏‏‏‏‏أَلَا وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمُهُ .
نعمان بن بشیر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو فرماتے سنا : حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور اس کے درمیان بہت سی چیزیں شبہ والی ہیں ١ ؎ جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے ہیں کہ یہ حلال کے قبیل سے ہیں یا حرام کے۔ تو جس نے اپنے دین کو پاک کرنے اور اپنی عزت بچانے کے لیے انہیں چھوڑے رکھا تو وہ مامون رہا اور جو ان میں سے کسی میں پڑگیا یعنی انہیں اختیار کرلیا تو قریب ہے کہ وہ حرام میں مبتلا ہوجائے، جیسے وہ شخص جو سرکاری چراگاہ کے قریب (اپنا جانور) چرا رہا ہو، قریب ہے کہ وہ اس میں واقع ہوجائے، جان لو کہ ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے اور اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں ۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الإیمان ٣٩ (٥٢) ، والبیوع ٢ (٢٠٥١) ، صحیح مسلم/المساقاة ٢٠ (البیوع ٤٠) ، (١٥٩٩) ، سنن ابی داود/ البیوع ٣ (٣٣٢٩) ، سنن النسائی/البیوع ٢ (٤٤٥٨) ، سنن ابن ماجہ/الفتن ١٤ (٢٩٨٤) ، (تحفة الأشراف : ١١٦٢٤) ، مسند احمد (٤/٢٦٧، ٢٦٩، ٢٧٠، ٢٧١، ٢٧٥) ، سنن الدارمی/البیوع ١ (٢٥٧٣) (صحیح)
وضاحت : ١ ؎ : مشتبہات (شبہ والی چیزوں) سے مراد ایسے امور و معاملات ہیں جن کی حلت و حرمت سے اکثر لوگ ناواقف ہوتے ہیں ، تقویٰ یہ ہے کہ انہیں اختیار کرنے سے انسان گریز کرے ، اور جو شخص حلت و حرمت کی پرواہ کئے بغیر ان میں ملوث ہوگیا تو سمجھ لو وہ حرام میں مبتلا ہوگیا ، اس میں تجارت اور کاروبار کرنے والوں کے لیے بڑی تنبیہ ہے کہ وہ صرف ایسے طریقے اختیار کریں جو واضح طور پر حلال ہوں اور مشتبہ امور و معاملات سے اجتناب کریں۔
قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3984)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1205
Sayyidina Nu’man ibn Bashir (RA) reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “The lawful is clearly defined and the unlawful is clearly defined, but between them are matters that are doubtful. Many of the people cannot decide whether they are lawful or unlawful. So, he who avoids them to guard his religion and honour has indeed, taken the safe path. And he who falls into some of it nearly falls into the unlawful, just as a shepherd who grazes his animals on the borders of a sanctuary might take them to the other side. Know that every king has a sanctuary. And know that the sanctuary of Allah is that which he has declared unlawful.[Ahmed 18375, Bukhari 52, Muslim 1599, Abu Dawud 3329, Nisai 4463, Ibn e Majah 3986]
Top