سنن الترمذی - خواب کا بیان - 2388
حدیث نمبر: 2270
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ لَمْ تَكَدْ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ تَكْذِبُ وَأَصْدَقُهُمْ رُؤْيَا أَصْدَقُهُمْ حَدِيثًا، ‏‏‏‏‏‏وَرُؤْيَا الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَالرُّؤْيَا ثَلَاثٌ:‏‏‏‏ فَالرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ بُشْرَى مِنَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالرُّؤْيَا مِنْ تَحْزِينِ الشَّيْطَانِ، ‏‏‏‏‏‏وَالرُّؤْيَا مِمَّا يُحَدِّثُ بِهَا الرَّجُلُ نَفْسَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ فَلْيَقُمْ فَلْيَتْفُلْ وَلَا يُحَدِّثْ بِهَا النَّاسَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَأُحِبُّ الْقَيْدَ فِي النَّوْمِ وَأَكْرَهُ الْغُلَّ، ‏‏‏‏‏‏الْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جب زمانہ قریب ہوجائے گا ١ ؎ تو مومن کے خواب کم ہی جھوٹے ہوں گے، ان میں سب سے زیادہ سچے خواب والا وہ ہوگا جس کی باتیں زیادہ سچی ہوں گی، مسلمان کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے ٢ ؎ خواب تین قسم کے ہوتے ہیں، بہتر اور اچھے خواب اللہ کی طرف سے بشارت ہوتے ہیں، کچھ خواب شیطان کی طرف سے تکلیف و رنج کا باعث ہوتے ہیں، اور کچھ خواب آدمی کے دل کے خیالات ہوتے ہیں، لہٰذا جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہے تو کھڑا ہو کر تھوکے اور اسے لوگوں سے نہ بیان کرے ، آپ نے فرمایا : میں خواب میں قید (پیر میں بیڑی پہننا) پسند کرتا ہوں اور طوق کو ناپسند کرتا ہوں ٣ ؎، قید سے مراد دین پر ثابت قدمی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/التعبیر ٢٦ (٧٠١٧) ، صحیح مسلم/الرؤیا ١ (٢٢٦٢) ، سنن ابی داود/ الأدب ٩٦ (٥٠١٩) ، سنن ابن ماجہ/الرؤیا ٩ (٣٩١٧) (تحفة الأشراف : ١٤٤٤٤) ، سنن الدارمی/الرؤیا ٢ (٢١٨٣) (صحیح )
وضاحت : ١ ؎ : زمانہ قریب ہونے کا مطلب تین طرح سے بیان کیا جاتا ہے : پہلا مطلب یہ ہے کہ اس سے مراد قرب قیامت ہے اور اس وقت کا خواب کثرت سے صحیح اور سچ ثابت ہوگا ، دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس سے مراد دن اور رات کا برابر ہونا ہے ، تیسرا مطلب یہ ہے کہ اس سے مراد زمانہ کا چھوٹا ہونا ہے یعنی ایک سال ایک ماہ کے برابر ، ایک ماہ ہفتہ کے برابر اور ایک ہفتہ ایک دن کے برابر اور ایک دن ایک گھڑی کے برابر ہوگا۔ ٢ ؎ : اس کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں : پہلا مفہوم یہ ہے کہ مومن کا خواب صحیح اور سچ ہوتا ہے ، دوسرا مفہوم یہ ہے کہ ابتدائی دور میں چھ ماہ تک آپ کے پاس وحی خواب کی شکل میں آتی تھی ، یہ مدت آپ کی نبوت کے کامل مدت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے اس طرح سچا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ بنتا ہے۔ ٣ ؎ : کیونکہ طوق پہننے سے اشارہ قرض دار رہنے ، کسی کے مظالم کا شکار بننے اور محکوم علیہ ہونے کی جانب ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني : صحيح
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2270
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “As the time draws near, the dream of a believer will not be false and the truest dream will be of one who is truest in speech. And, the dream of the Muslim is a portion of the forty-six portions of Prophet ﷺ Hood. And dreams are of three kinds: good dreams are glad tidings from Allah, sad dreams are from the devil and there are dreams about what man experiences with him self. So, when one of you sees a dream that he does not like then he must stand up and spit (out to a side) and he must not mention it to the people”. He also said, “I love to see a chain in my dream because the noblest fetters are to be steadfast in religion and I hate the fetters in the neck”.[Bukhari 7017, Muslim 2263]
Top