سنن الترمذی - دعاؤں کا بیان - حدیث نمبر 18921
حدیث نمبر: 514
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي أَبُو مَرْحُومٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْحِبْوَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو مَرْحُومٍ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مَيْمُونٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ الْحِبْوَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ، ‏‏‏‏‏‏وَرَخَّصَ فِي ذَلِكَ بَعْضُهُمْ مِنْهُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَغَيْرُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق:‏‏‏‏ لَا يَرَيَانِ بِالْحِبْوَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ بَأْسًا.
امام کے خطبہ کے دوران احتباء مکروہ ہے
معاذ بن انس جہنی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم نے جمعہ کے دن جب کہ امام خطبہ دے رہا ہو گھٹنوں کو پیٹ کے ساتھ ملا کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- عام اہل علم نے جمعہ کے دن حبوہ کو مکروہ جانا ہے، اور بعض نے اس کی رخصت دی ہے، انہیں میں سے عبداللہ بن عمر وغیرہ ہیں۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، یہ دونوں امام کے خطبہ دینے کی حالت میں حبوہ کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الصلاة ٢٣٤ (١١١٠)، ( تحفة الأشراف: ١١٢٩٩)، مسند احمد (٣/٤٣٩) (حسن)
وضاحت: ١ ؎: «حبوہ» ایک مخصوص بیٹھک کا نام ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ سرین پر بیٹھا جائے اور دونوں گھٹنوں کو کھڑا رکھا جائے اور انہیں دونوں ہاتھوں سے باندھ لیا جائے، اس سے ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح بیٹھنے سے نیند آتی ہے اور ہوا خارج ہونے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن، المشکاة (1293)، صحيح أبي داود (1017)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 514
Top