سنن الترمذی - رضاعت کا بیان - 1152
حدیث نمبر: 1146
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعِ مَا حَرَّمَ مِنَ النَّسَبِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأُمِّ حَبِيبَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَلِيٍّ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے رضاعت سے بھی وہ سارے رشتے حرام کر دئیے ہیں جو نسب سے حرام ہیں ١ ؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ١- علی کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عائشہ، ابن عباس اور ام حبیبہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اس سلسلے میں ہم ان کے درمیان اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں جانتے۔
تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠١١٨) (صحیح)
وضاحت : ١ ؎ : یہ سات رشتے ہیں ( ١) مائیں ( ٢) بیٹیاں ( ٣) بہنیں ( ٤) پھوپھیاں ( ٥) خالائیں ( ٦) بھتیجیاں ( ٧) بھانجیاں ، ماں میں دادی نانی داخل ہے اور بیٹی میں پوتی نواسی داخل ، اور بہنیں تین طرح کی ہیں : سگی ، سوتیلی اور اخیافی ، اسی طرح بھتیجیاں اور بھانجیاں اگرچہ نیچے درجہ کی ہوں اور پھوپھیاں سگی ہوں خواہ سوتیلی خواہ اخیافی ، اسی طرح باپ دادا اور ماں اور نانی کی پھوپھیاں سب حرام ہیں اور «خالائیں علی ہذا القیاس»۔
قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (6 / 284)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1146
Sayyidina Ali reported that Allah’s Messenger prohibited by reason of fosterage what he prohibited by reason of genealogy.--------------------------------------------------------------------------------
Top