صحیح مسلم - - حدیث نمبر 107
حدیث نمبر: 3015
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ:‏‏‏‏ مَرِضْتُ فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي وَقَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا أَفَقْتُ قُلْتُ:‏‏‏‏ كَيْفَ أَقْضِي فِي مَالِي ؟ فَسَكَتَ عَنِّي حَتَّى نَزَلَتْ يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ سورة النساء آية 11 ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ.
سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں
محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ ؓ کو کہتے ہوئے سنا: میں بیمار ہوا تو رسول اللہ میری عیادت کو تشریف لائے اس وقت مجھ پر بےہوشی طاری تھی، پھر جب مجھے افاقہ ہوا تو میں نے عرض کیا: میں اپنے مال میں کس طرح تقسیم کروں؟ آپ یہ سن کر خاموش رہے، مجھے کوئی جواب نہیں دیا، پھر یہ آیات «يوصيكم اللہ في أولادکم للذکر مثل حظ الأنثيين» نازل ہوئیں ١ ؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسے کئی اور لوگوں نے بھی محمد بن منکدر سے روایت کیا ہے۔
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم ٢٠٩٧ (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے (النساء: ١١
قال الشيخ الألباني: صحيح، صحيح أبي داود (2728)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3015
Top