صحیح مسلم - فیصلوں کا بیان - حدیث نمبر 3826
حدیث نمبر: 1331
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا تَقَاضَى إِلَيْكَ رَجُلَانِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا تَقْضِ لِلْأَوَّلِ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى تَسْمَعَ كَلَامَ الْآخَرِ، ‏‏‏‏‏‏فَسَوْفَ تَدْرِي، ‏‏‏‏‏‏كَيْفَ تَقْضِي ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَلِيٌّ:‏‏‏‏ فَمَا زِلْتُ قَاضِيًا بَعْدُ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
قاضی اس وقت تک فیصلہ نہ کرے جب تک کہ فریقین کے بیانات نہ سن لے
علی ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ نے فرمایا: جب تمہارے پاس دو آدمی فیصلہ کے لیے آئیں تو تم پہلے کے حق میں فیصلہ نہ کرو جب تک کہ دوسرے کی بات نہ سن لو ١ ؎ عنقریب تم جان لو گے کہ تم کیسے فیصلہ کرو ۔ علی ؓ کہتے ہیں: اس کے بعد میں برابر فیصلے کرتا رہا۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الأقضیة ٦ (٣٥٨٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٨١) (حسن) (متابعات کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کے راوی " حنش " ضعیف ہیں، دیکھئے: الإرواء رقم: ٢٦٠٠ )
وضاحت: ١ ؎: اور اگر دوسرا فریق خاموش رہے، عدالت کے سامنے کچھ نہ کہے، نہ اقرار کرے نہ انکار یا دوسرا فریق عدالت کی طلبی کے باوجود عدالت میں بیان دینے کے لیے حاضر نہ ہو تو کیا دوسرے فریق کے خلاف فیصلہ دیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ قرین صواب بات یہی ہے کہ اس صورت میں عدالت یک طرفہ فیصلہ دینے کی مجاز ہوگی۔
قال الشيخ الألباني: حسن، الإرواء (2600)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1331
Top