مسند امام احمد - - حدیث نمبر 101
حدیث نمبر: 102
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق هُوَ الْقُرَشِيُّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ السُّنَّةُ يَا ابْنَ أَخِي ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ وَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْعِمَامَةِ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَمِسَّ الشَّعَرَ الْمَاءَ .
جوربین اور عمامہ پر مسح کرنے کے بارے میں
ابوعبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے دونوں موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میرے بھتیجے! (یہ) سنت ہے۔ وہ کہتے ہیں اور میں نے عمامہ پر مسح کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: بالوں کو چھوؤ۔
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٣١٦٥) (صحیح الإسناد)
وضاحت: ١ ؎: یعنی: پانی سے بالوں کو مس کرو، یعنی: عمامہ پر مسح نہ کرو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 102
Top