سنن الترمذی - مناقب کا بیان - حدیث نمبر 134
حدیث نمبر: 1993
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكَرِّمٍ الْعَمِّيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ اللَّيْثِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ وَهُوَ بَاطِلٌ بُنِيَ لَهُ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَهُوَ مُحِقٌّ بُنِيَ لَهُ فِي وَسَطِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ حَسَّنَ خُلُقَهُ بُنِيَ لَهُ فِي أَعْلَاهَا ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا الْحَدِيثُ حَدِيثٌ حَسَنٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَلَمَةَ بْنِ وَرْدَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.
جھگڑے کے بارے میں
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: جو شخص (جھگڑے کے وقت) جھوٹ بولنا چھوڑ دے حالانکہ وہ ناحق پر ہے، اس کے لیے اطراف جنت میں ایک مکان بنایا جائے گا، جو شخص حق پر ہوتے ہوئے جھگڑا چھوڑ دے اس کے لیے جنت کے بیچ میں ایک مکان بنایا جائے گا اور جو شخص اپنے اخلاق اچھے بنائے اس کے لیے اعلیٰ جنت میں ایک مکان بنایا جائے گا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے، ہم اسے صرف سلمہ بن وردان کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں۔
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/المقدمة ٧ (٥١) (تحفة الأشراف: ٨٦٨) (ضعیف) سند میں سلمہ بن وردان لیثی مدنی ضعیف راوی ہیں، صحیح الفاظ ابو امامہ ؓ کی حدیث سے اس طرح ہیں: " أنا زعیم ببیت في ربض الجنة لمن ترک المزاح و إن کان محقا، و بیت في وسط الجنة لمن ترک الکذب و إن کان مازحا، و بیت في اعلی الجنة لمن حسن خلقہ " (أبو داود رقم ٤٨٠٠) تفصیل کے لیے دیکھیے الصحیحة ٢٧٣ )
قال الشيخ الألباني: ضعيف بهذا اللفظ، ابن ماجة (51) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (6)، الصحيحة (273)، ضعيف الجامع برقم (5522) //
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1993
Top