صحیح مسلم - جمعہ کا بیان - حدیث نمبر 2878
حدیث نمبر: 2924
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُعَاوِيةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ هُوَ رَجُلٌ بَصْرِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُعَائِشَةَ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ كَانَ يُوتِرُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ أَوْ مِنْ آخِرِهِ ؟ فَقَالَتْ:‏‏‏‏ كُلُّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَصْنَعُ، ‏‏‏‏‏‏رُبَّمَا أَوْتَرَ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا أَوْتَرَ مِنْ آخِرِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَتُهُ ؟ أَكَانَ يُسِرُّ بِالْقِرَاءَةِ أَمْ يَجْهَرُ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ كُلُّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ، ‏‏‏‏‏‏قَدْ كَانَ رُبَّمَا أَسَرَّ وَرُبَّمَا جَهَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ فَكَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ فِي الْجَنَابَةِ ؟ أَكَانَ يَغْتَسِلُ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ أَوْ يَنَامُ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ كُلُّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ، ‏‏‏‏‏‏فَرُبَّمَا اغْتَسَلَ فَنَامَ وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
نبی اکرم ﷺ کی قرأت کے متعلق
عبداللہ بن ابی قیس بصریٰ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے رسول اللہ کی وتر کے بارے میں پوچھا کہ آپ وتر رات کے شروع حصے میں پڑھتے تھے یا آخری حصے میں؟ انہوں نے کہا: آپ دونوں ہی طرح سے کرتے تھے۔ کبھی تو آپ شروع رات میں وتر پڑھ لیتے تھے اور کبھی آخر رات میں وتر پڑھتے تھے۔ میں نے کہا: الحمدللہ! تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہیں جس نے دین کے معاملے میں وسعت و کشادگی رکھی، پھر میں نے پوچھا: آپ کی قرأت کیسی ہوتی تھی؟ کیا آپ دھیرے پڑھتے تھے یا بلند آواز سے؟ کہا: آپ یہ سب کرتے تھے۔ کبھی تو دھیرے پڑھتے تھے اور کبھی آپ زور سے میں نے کہا: الحمدللہ، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے دین میں وسعت و کشادگی رکھی۔ پھر میں نے کہا: آپ جب جنبی ہوجاتے تھے تو کیا کرتے تھے؟ کیا سونے سے پہلے غسل کرلیتے تھے یا غسل کیے بغیر سو جاتے تھے؟ کہا: آپ یہ تمام ہی کرتے تھے، کبھی تو آپ غسل کرلیتے تھے پھر سوتے، اور کبھی وضو کر کے سو جاتے، میں نے کہا: اللہ کا شکر ہے کہ اس نے دینی کام میں وسعت و کشادگی رکھی۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم ٤٤٩ (صحیح )
قال الشيخ الألباني: صحيح، صحيح أبي داود (222 - 1291)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2924
Top