سنن الترمذی - نماز کا بیان - حدیث نمبر 115
حدیث نمبر: 3258
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِابْنِ مَسْعُودٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:‏‏‏‏ هَلْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ مِنْكُمْ أَحَدٌ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ مَا صَحِبَهُ مِنَّا أَحَدٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ قَدِ افْتَقَدْنَاهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَهُوَ بِمَكَّةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْنَا:‏‏‏‏ اغْتِيلَ أَوِ اسْتُطِيرَ مَا فُعِلَ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى إِذَا أَصْبَحْنَا أَوْ كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ إِذَا نَحْنُ بِهِ يَجِيءُ مِنْ قِبَلِ حِرَاءَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَذَكَرُوا لَهُ الَّذِي كَانُوا فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَتَانِي دَاعِي الْجِنِّ فَأَتَيْتُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَانْطَلَقَ فَأَرَانَا آثَارَهُمْ وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الشَّعْبِيُّ:‏‏‏‏ وَسَأَلُوهُ الزَّادَ وَكَانُوا مِنْ جِنِّ الْجَزِيرَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كُلُّ عَظْمٍ يُذْكَرُ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ يَقَعُ فِي أَيْدِيكُمْ أَوْفَرَ مَا كَانَ لَحْمًا، ‏‏‏‏‏‏وَكُلُّ بَعْرَةٍ أَوْ رَوْثَةٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ فَلَا تَسْتَنْجُوا بِهِمَا فَإِنَّهُمَا زَادُ إِخْوَانِكُمُ الْجِنِّ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
سورہ دخان کی تفسیر
علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن مسعود ؓ سے کہا: کیا جنوں والی رات میں آپ لوگوں میں سے کوئی نبی اکرم کے ساتھ تھا؟ انہوں نے کہا: ہم میں سے کوئی آپ کے ساتھ نہیں تھا، آپ مکہ میں تھے اس وقت کی بات ہے، ایک رات ہم نے آپ کو نائب پایا، ہم نے کہا: آپ کا اغوا کرلیا گیا ہے یا (جن) اڑا لے گئے ہیں، آپ کے ساتھ کیا کیا گیا ہے؟ بری سے بری رات جو کوئی قوم گزار سکتی ہے ہم نے ویسی ہی اضطراب وبے چینی کی رات گزاری، یہاں تک کہ جب صبح ہوئی، یا صبح تڑکے کا وقت تھا اچانک ہم نے دیکھا کہ آپ حرا کی جانب سے تشریف لا رہے ہیں، لوگوں نے آپ سے اپنی اس فکرو تشویش کا ذکر کیا جس سے وہ رات کے وقت دوچار تھے، آپ نے فرمایا: جنوں کا قاصد (مجھے بلانے) آیا، تو میں ان کے پاس گیا، اور انہیں قرآن پڑھ کر سنایا ، ابن مسعود کہتے ہیں: ـپھرآپاٹھکرچلے اور ہمیں انکے آثار (نشانات و ثبوت) دکھائے، اور ان کی آگ کے نشانات دکھائے۔ شعبی کہتے ہیں: جنوں نے آپ سے توشہ مانگا، اور وہ جزیرہ کے رہنے والے جن تھے، آپ نے فرمایا: ہر ہڈی جس پر اللہ کا نام لیا جائے گا تمہارے ہاتھ میں پہنچ کر پہلے سے زیادہ گوشت والی بن جائے گی، ہر مینگنی اور لید (گوبر) تمہارے جانوروں کا چارہ ہے ، پھر رسول اللہ نے (صحابہ سے) فرمایا: (اسی وجہ سے) ان دونوں چیزوں سے استنجاء نہ کرو کیونکہ یہ دونوں چیزیں تمہارے بھائی جنوں کی خوراک ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة ٣٣ (٤٥٠)، سنن ابی داود/ الطھارة ٤٢ (٨٥) (تحفة الأشراف: ٩٣٦٣) (صحیح) (اس حدیث پر تفصیلی بحث کے لیے ملاحظہ ہو: الضعیفة رقم ١٠٣٨)
قال الشيخ الألباني: صحيح دون جملة اسم اللہ و علف لدوابکم، الضعيفة (1038)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3258
Top