تعارف
تعارف سورة ص : بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کی سچائیوں کو جھٹلانے اور غرورو تکبر کرنے والوں سے فرمایا ہے کہ وہ جس تعصب ، بےجا ضد اور ہٹ دھرمی کے ساتھ اللہ کے محبوب رسول خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جھٹلاتے ہوئے ان کو ساحر ، کاہن ، مجنوں اور جھوٹا کہہ رہے ہیں ہر سچائی کا انکار کر کے رات دن اللہ کو چھوڑ کر غیر اللہ کی عبادت و بندگی کر رہے ہیں اور دین پر چلنے کا انکار کر رہے ہیں انہیں قوم عاد ، قوم ثمود ، قوم فرعون ، قوم لوط اور قوم ایکہ کے بد ترین انجام کو سامنے رکھنا چاہیے کہ جب اللہ نے ان کے مسلسل انکار اور برے اعمال کی سزا کے طور پر تباہ و برباد کیا تو کوئی ان کی مدد کے لئے نہ آسکا اور وہ صفحہ ہستی سے اس طرح مٹا دیئے گئے کہ آج ان کا نام و نشان تک مٹ گیا ہے فرمایا کہ اصل میں تم نے ابھی تک عذاب الٰہی کا مزہ نہیں چکھا ورنہ ایسی فضول باتیں نہ کرتے۔
دوسری بات یہ فرمائی کہ مکہ جو اپنی چھوٹی چھوٹی سرداریوں اور مال و دولت پر اترا رہے ہیں انہیں حضرت دائود (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی زندگی ، ان کی عبادت ، صبر و شکر اور عدل و انصاف کو سامنے رکھنا چاہیے کہ اللہ نے ان کو اتنی زبردست سلطنتیں عطاء کی تھیں کہ جو ان سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی تھیں لیکن انہوں نے حکومت و سلطنت ، مال و دولت اور کائنات کی ہزاروں نعمتوں پر غرور وتکبر اور نا شکری کرنے کے بجائے عاجزی و انکساری اور صبر و شکر کا عظیم مظاہرہ کیا ۔ جب ان کا امتحان لیا گیا تو اس میں پورے اترے ۔ اللہ نے حضرت دائود (علیہ السلام) کے ہاتھ میں لوہے کی موم کی طرح نرم کردیا تھا جس سے وہ زر ہیں ( جنگی سامان) بنا کر اپنی روزی حاصل کرتے تھے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے انسان ، جنات ، چرند ، پرند اور ہوا تک کو ان کے تابع کردیا گیا تھا ۔ ہمیشہ وہ عاجزی و انکساری اختیار کرتے اور اپنے ہاتھ کی محنت سے گزارا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ جب انہیں اپنی سواریوں اور مال و دولت پر کچھ ناز سا ہوگیا تھا اور ان کو اس کا احساس ہوا تو انہوں نے ہر چیز کو ختم کردیا جو اللہ کی محبت اور اطاعت میں آڑے آرہی تھی ۔
( سورة ص میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت یسع (علیہ السلام) اور حضرت ذوالکفل (علیہ السلام) کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ نیک ، پرہیز گار اور صبر و شکر کرنے والے پیغمبر تھے جنہوں نے پوری زندگی اور اس کا ہر لمحہ اللہ کے دین کی سر بلندی میں لگا کر ساری دنیا کے انسانوں کے لیے ایک بہترین نمونہ عمل پیش کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر ایمان لانے والوں کو دین و دنیا کی بھلائیاں اور عظمتیں عطاء فرمائیں اور جنہوں نے کفر و انکار کیا ان کو اس طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیا کہ آج ان کا نام و نشان تک مٹ گیا ہے۔ )
(حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے ہر طرح کی مشکلات ، پریشانیوں اور بیماریوں میں گھر جانے کے باوجود صبر و شکر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور اس آزمائش میں وہ پورے اترے۔ )
حضرت ایوب (علیہ السلام) اور ان کا مشکلات پر صبر اور نعمتوں پر شکر کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جب اللہ نے ان کو ایک سخت آزمائش میں ڈالا تو انہوں نے سخت اذیتیں اور تکلیفیں برداشت کیں لیکن تمام حالات پر آپ (علیہ السلام) نے اف تک نہ کیا اور تکلیفوں پر بھی صبر و تحمل سے کام لیتے رہے۔ جب وہ اپنے امتحان میں کامیاب ہوگئے تو اللہ نے ان پر بہت سی عنایتیں کیں اور ان کو پہلے سے بھی زیادہ نعمتوں سے نواز دیا ۔ اس میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جانثار صحابہ کرام (رض) کو تسلی دی گئی ہے کہ اس وقت وہ جن مشکلات میں مبتلا ہیں وہ بہت جلد دور ہوجائیں گی چونکہ اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے اور اس کا یہی دستور ہے کہ اس کے راستے میں مصائب برداشت کرنے والوں کو وہ اجر عظیم سے نوازتا ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت یسع (علیہ السلام) اور حضرت ذوالکفل (علیہ السلام) کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ نیک اور پرہیز گار لوگوں کی جماعت ہے جس نے ساری زندگی دین اسلام کی سچائیوں کو پھیلانے میں گزار دی ۔ پھر اللہ کے راستے میں ہر طرح کی تکلیفیں برداشت کیں لیکن صبر و برداشت کے دامن کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا ۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اللہ نے ان کو اور ان پر ایمان لانے والوں کو نجات عطاء فرما دی اور ان کا انکار کرنے والوں اور نا شکری کے ساتھ زندگی گزارنے والوں کی بنیادیں کھود کر رکھ دیں اور ان کو اس طرح مٹا دیا گیا کہ آج ان کی زندگی افسانہ بن کر رہ گئی ہے۔
فرمایا گیا کہ وہ لوگ جنہوں نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی اطاعت و فرمانبرداری کی ان کو دنیا اور آخرت میں عزت و عظمت اور سر بلندیاں عطاء کی گئیں اور جن لوگوں نے نا فرمانیاں کی ہوں گی ان کو آخرت کی ابدی زندگی میں جہنم اور اس جہنم میں کھانے کے لئے ” زقوم کا جنت “ پینے کے لیے کھولتا ہوا گرم پانی اور لہو ، پیپ دیا جائے گا اور جہنمی ایک دوسرے پر لعنت و ملامت کریں گے۔
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا ہے کہ وہ اعلان فرما دیں کہ مجھے تم سے اس تبلیغ دین پر کوئی اجرت اور بدلہ نہیں چاہیے۔ میں تو صرف آخرت کے عذاب ، برے اعمال کے بد ترین انجام اور جہنم کی آگ سے آگاہ کرنے اور ڈرانے آیا ہوں اگر تم نے اللہ کے دین سے منہ پھیر کر شیطان کی طرح غرور وتکبر ، ہٹ دھرمی اور ضد کا اظہار کیا تو جو انجام شیطان کے غرور وتکبر کا ہوا تھا وہی تمہارا بھی ہوگا اگر تم نے میری بات نہ مانی تو وہ وقت زیادہ دور نہیں ہے جب ساری حقیقت تمہارے سامنے کھل کر آجائے گی۔