Anwar-ul-Bayan - Saad : 27
وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ
وَ : اور مَا خَلَقْنَا : نہیں پیدا کیا ہم نے السَّمَآءَ : اور زمین وَالْاَرْضَ : اور زمین وَمَا : اور جو بَيْنَهُمَا : ان کے درمیان بَاطِلًا ۭ : باطل ذٰلِكَ : یہ ظَنُّ : گمان الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۚ : جن لوگوں نے کفر کیا فَوَيْلٌ : پس خرابی ہے لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا : ان کے لیے جنہوں نے کفر کیا (کافر) مِنَ : سے النَّارِ : آگ
اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے بلا حکمت پیدا نہیں کیا، یہ گمان ان لوگوں کا ہے جنہوں نے کفر کیا، سو ان لوگوں کے لیے ہلاکت ہے یعنی دوزخ کا داخلہ ہے،
مفسدین اور اعمال صالحہ والے، مؤمنین اور متقین اور فجار برابر نہیں ہوسکتے ! یہ تین آیات کا ترجمہ ہے ان سے پہلے داؤد (علیہ السلام) کا ذکر ہو رہا تھا اور عنقریب حضرت سلیمان اور ان کے بعد حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ذکر آ رہا ہے ان تین آیات میں بطور جملہ معترضہ توحید و رسالت اور معاد کو بیان فرمایا یہی تینوں چیزیں ہیں جن کی طرف قرآن کریم برابر دعوت دیتا ہے اور ان کے ماننے پر آخرت کی بھلائی کا وعدہ دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو آسمان اور زمین کو پیدا فرمایا اور ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے اسے وجود بخشا یہ سب یوں ہی خواہ مخواہ اور بلا حکمت نہیں ہیں ان کے وجود کو دیکھ کر اول تو خالق کائنات جل مجدہٗ کی معرفت حاصل ہونا چاہیے اور پھر یہ بھی فکر کرنا چاہیے کہ ان چیزوں کے پیدا فرمانے میں حکمت کیا ہے ؟ دنیا میں انسان بھی اور دوسری مخلوق بھی ہے آپس میں رحم بھی ہے، مظالم بھی ہیں، لڑائی جھگڑے بھی ہیں قتل و خون بھی ہیں اللہ تعالیٰ کے مومن بندے بھی ہیں اور کافر و مشرک بھی ہیں، موت بھی ہے اور حیات بھی ہے، یہ کارخانہ جو جاری اور ساری ہے خالق کائنات جل مجدہٗ نے اسے کیوں پیدا فرمایا اگر اس بات میں غور کیا جائے تو سمجھ میں آجائے کہ اس کارخانہ میں جو کچھ بھی ہے سب اللہ تعالیٰ شانہٗ کی حکمت پر مبنی ہے ایمان و کفر، خیر و شر کا سلسلہ جاری ہے لیکن ایک دن یہ دنیا ختم ہوجائے گی قیامت واقع ہوگی سب حاضر ہوں گے اس وقت اہل ایمان کو ایمان کی جزا اور اہل کفر کو کفر کی سزا دی جائے گی جو لوگ وقوع قیامت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے نزدیک موت کے بعد اچھے یا برے اعمال کا بدلہ ملنے والا نہیں ہے ان کی بات کا حاصل یہ ہے کہ جو لوگ مومن ہیں متقی ہیں گناہوں سے بچتے ہیں وہ اور بڑے بڑے فاجر برابر ہوجائیں گے، یعنی نہ انہیں کوئی ثواب ملے گا نہ انہیں کوئی عذاب ملے گا ان لوگوں کا یہ گمان باطل ہے جو ان کے لیے ہلاکت اور بربادی کا سبب ہے اور وہ بربادی یہ ہوگی کہ یہ لوگ دوزخ میں داخل کردئیے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں اہل ایمان اور اعمال صالحہ والے بندوں کا بڑا مرتبہ ہے یہ حضرات جنتی ہوں گے اور زمین میں فساد کرنے والے دوزخ میں جائیں گے اگر ان کافروں اور مفسدوں نے یہ سمجھا ہے کہ اہل ایمان کو نعمتیں نہ ملیں گی اور وہ ہماری طرح ہی ہوں گے مر کر ختم ہوجائیں گے یا یہ سمجھا ہے کہ جو نعمتیں انہیں ملیں گی ہمیں بھی مل جائیں گی یہ ان کی حماقت ہے۔ (یہاں تک توحید اور معاد کا بیان ہوا) اس کے بعد فرمایا کہ ہم نے آپ کی طرف ایک کتاب نازل کی ہے جو مبارک ہے اس کے ماننے اور پڑھنے پڑھانے اور اس پر عمل کرنے میں دنیا اور آخرت کی خیر ہی خیر ہے، آپ کے توسط سے جن لوگوں تک پہنچے ان کو چاہیے کہ اس کی آیات میں فکر کریں اور عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں تاکہ احکام شرعیہ کو جانیں اور ان پر عمل پیرا بھی ہوں۔
Top