Madarik-ut-Tanzil - Al-A'raaf : 139
فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖۤ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ وَ اَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍۭ بَئِیْسٍۭ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ
فَلَمَّا : پھر جب نَسُوْا : وہ بھول گئے مَا : جو ذُكِّرُوْا بِهٖٓ : انہیں سمجھائی گئی تھی اَنْجَيْنَا : ہم نے بچا لیا الَّذِيْنَ : وہ جو کہ يَنْهَوْنَ : منع کرتے تھے عَنِ السُّوْٓءِ : برائی سے وَاَخَذْنَا : اور ہم نے پکڑ لیا الَّذِيْنَ : وہ لوگ جنہوں نے ظَلَمُوْا : ظلم کیا بِعَذَابٍ : عذاب بَئِيْسٍ : برا بِمَا : کیونکہ كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ : نافرمانی کرتے تھے
یہ لوگ جس (شغل) میں (پھنسے ہوئے) ہیں وہ برباد ہونے والا ہے اور جو کام یہ کرتے ہیں سب بیہودہ ہیں۔
بت پرستی بےبنیاد چیز ہے : آیت 139: اِنَّ ھٰٓؤُلَآ ئِ (بیشک یہ کام) ان تماثیل کی عبادت کرنے والے مُتَبَّرٌ (بیکار ہیں) ہلاک ہونے والے ہیں۔ یہ تبار سے بنا ہے۔ مَّا ھُمْ فِیْہِ (جس میں وہ مصروف ہیں) اللہ تعالیٰ ہلاک کردیں گے اور ان کے لین دین کو مہندم کردیں گے جس پر وہ چل رہے ہیں میرے ذریعہ یہاں ہٰٓؤُلَآئِ کو اِنّ کا اسم بنانے اور خبر کو مقدم کر کے اس بات کو نشان زدہ کردیا کہ بت پرست دراصل خود ہلاکت کا شکار ہونے والے ہیں۔ اور وہ اس سے بالکل نہیں بچ سکتے۔ وَبٰطِلٌ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (اور محض بےبنیاد ہے جو وہ کر رہے ہیں) یعنی جو کچھ وہ بت پرستی کرتے ہیں وہ بےکار اور بےحقیقت ہونے والی ہے۔
Top