Tafseer-e-Haqqani - Saad : 27
وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ
وَ : اور مَا خَلَقْنَا : نہیں پیدا کیا ہم نے السَّمَآءَ : اور زمین وَالْاَرْضَ : اور زمین وَمَا : اور جو بَيْنَهُمَا : ان کے درمیان بَاطِلًا ۭ : باطل ذٰلِكَ : یہ ظَنُّ : گمان الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۚ : جن لوگوں نے کفر کیا فَوَيْلٌ : پس خرابی ہے لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا : ان کے لیے جنہوں نے کفر کیا (کافر) مِنَ : سے النَّارِ : آگ
اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے نکما تو پیدا کیا ہی نہیں۔ یہ گمان تو ان کا ہے جو کافر ہیں، پھر کافروں کی خرابی ہے جو آگ ہے۔
کفار نے استہزاء و تمسخر کے طور پر کہا تھا ربنا عجل لنا قطنا ان کی غرض اس سے حشر کا انکار تھا، مگر یہ گفتگو جاہلانہ تھی، اس لیے حضرت ﷺ کو صبر کرنے کا حکم دیا اور آپ کی تسلی کے لیے دائود ( علیہ السلام) کا قصہ سنایا کہ جس سے دائود ( علیہ السلام) کا باوجود فضائلِ مذکورہ کے جاہلوں کی بےباکی پر برداشت کرنا ثابت ہوتا تھا، اس کے بعد حشر کا اثبات ایک اور طریقہ سے کرنا شروع کیا اور یہ کمال حسن بلاغت ہے۔ فقال وما خلقنا السماء الیٰ قولہ کالفجار۔ پہلے بطور تمہید کے یہ بیان کیا کہ ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے اندر کی چیزوں کو عبث اور بیکار پیدا نہیں کیا ہے، اس بات کو ہر ذی عقل سلیم تسلیم کرسکتا ہے کہ وہ قادر ‘ فعل مختار ‘ حکیم ہے۔ حکیم کا کوئی کام عبث نہیں ہوتا مگر جو کور باطن ہیں جن کو کافر کہا جاتا ہے۔ وہ ایسا گمان کرتے ہیں تو ان کی اس کوڑھ مغزی پر پھٹکار اور جہنم کی مار ہے۔ پس جب یہ ثابت ہوا تو دریافت کرنا چاہیے کہ اس مخلوق کے پیدا کرنے سے اس نے کیا غایۃ ٹھہرائی ہے وہ یہ کہ انسان جو عقل و ادراک کے لحاظ سے سب مخلوق میں اشرف ہے اور آسمان و زمین اس کے قیام و نفع کے لیے ہیں، اس کے بنانے سے یہ مقصود ہے کہ وہ اپنے خالق کو پہچان کرے اور اطاعت کرے۔ بری باتوں سے ڈرے اور یہ عالم نیکی اور بدی کی جزاء و سزائِ کامل کا گھر نہیں ہے، یہ بھی ظاہر ہے، کس لیے کہ سینکڑوں کفار خالق کے منکر بدکردار اور بدذات ظالم فریبی عمر بھر دنیا میں عیش و آرام سے رہے ہیں اور بہت سے نیک ہر قسم کی تکالیف میں مبتلا رہے ہیں، پھر اگر کوئی دوسری جگہ دار الجزا نہ ہو تو دونوں برابر ہوجاویں، بلکہ برے فائدہ میں رہیں اور ایسا کام اس حکیم کی شان سے بعید ہے کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو بیکار پیدا نہیں کیا ہے، بلکہ ہر ایک کو نہایت حکمت اور مصلحتیں ملحوظ کہہ کر بنایا، پس ثابت ہوا کہ ایک اور جگہ دارالجزاء ہے اور وہ عالم آخرت ہے۔ ام نجعل الذین آمنوا الخ میں خدا تعالیٰ اسی مطلب کو نہایت اختصار اور بلاغت کے ساتھ بیان فرماتا ہے۔ اس لیے اس قرآن مجید کی کہ جس میں ان خوبیوں کے ساتھ یہ مطالب نفیسہ بیان کئے گئے ہیں، خوبی بیان فرماتا ہے۔ کتاب انزلناہ الیک مبارک الخ کہ یہ کتاب جو ہم نے اے محمد ﷺ تجھ پر نازل کی ہے، بڑی بابرکت کتاب ہے، سمجھنے اور غور کرنے کے لیے بھیجی کہ دانشمند غور کرکے ہدایت پاویں۔ اس میں مسئلہ نبوت کو بھی دوسرے پہلو سے ثابت کردیا اور قرآن کا کتاب الٰہی ہونا ثابت کر دکھایا، اس کی خوبیوں سے۔ اولو الالباب کے بعد حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا تذکرہ کرکے یہ بات بتلاتا ہے کہ ایسے سمجھ اور عقل والوں پر خدا دنیا میں بھی فضل و کرم کرتا ہے۔ دائود ( علیہ السلام) جو بڑی عقل کامل رکھتے تھے جس کے سبب خدا پرستی کرتے تھے، ان کو فرزند بھی ایسا ہی لائق اور عقلمند عطاء کیا، یعنی سلیمان ( علیہ السلام) جو خدا کی طرف رجوع رہتے تھے۔ اس میں بتلایا گیا ہے کہ یہ لوگ اولو الالباب ہیں اور امت محمدیہ کے اولو الالباب قرآن سے فیض یاب ہوتے ہیں اور دائود ( علیہ السلام) کے تذکرہ کی تکمیل بھی ہے۔ سلیمان ( علیہ السلام) کو اوّاب فرمایا تھا۔ اب اس کا ایک تذکرہ بھی کرتا ہے جس سے ان کا اوّاب ہونا پایا جاوے۔ فقال اذ عرض علیہ ما بالعشی الخ عشی عصر کے وقت سے لے کر غروب تک کے زمانے کو کہتے ہیں۔ صافن اسپ برسہ پائے استادہ سرہم چہارم برزمین نہادہ۔ وایضاً القائم الذی یصف قدمیہ صفون بالضم مصدر منہ (صراح) قال المبرد الجیاد جمع جواد تیز رو گھوڑا یعنی وہ گھوڑے جو کھڑے ہوں تو بانکپن اور نزاکت اور خوبی سے اور چلیں تو ہوا سے باتیں کریں۔ تو ارت کی ضمیر شمس کی طرف پھرتی ہے جو العشی سے سمجھا جاتا ہے اور رودھا کی الصافنات کی طرف یعنی میں ان گھوڑوں کے ملاحظہ میں یہاں تک مصروف ہوا کہ آفتاب غروب ہوگیا۔ یادِ الٰہی سے اس وقت غافل ہوگیا۔ ان گھوڑوں کو میرے سامنے پھر لاؤ اور ذبح کر ڈالو۔ عام مفسرین اسی طرف گئے ہیں کہ ان کو ذبح کروا ڈالا، کونچیں کاٹ ڈالیں۔ صلوۃ عصر فوت ہونے کے بدلہ میں۔ مگر صحیح تر بیان اس واقعہ کا الفاظ قرآنیہ کے مطابق یہ ہے اور اس کو تفسیر سمجھنا چاہیے۔ وہ یہ کہ گھوڑوں کا پالنا اور تیار کرنا دشمنوں کے مقابلہ اور جہاد کے لیے جیسا کہ دین محمدی (علیہ الصلوۃ والسلام) میں عمدہ اور افضل کام ہے، ایسا ہی حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے عہد میں تھا کیونکہ فلسطی اور مصری اور بابل کے بت پرست بادشاہوں کا چاروں طرف سے نرغہ تھا۔ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے بیٹھ کر ایک بار ان کا جائزہ لینا چاہا اور پہلے یہ فرما دیا۔ انی احبیت حب الخیر عن ذکر رب کہ میں ان کو دنیا کے لیے نہیں دوست رکھتا ہوں بلکہ ذکررب اور دین کے لیے ان کو پسند اور محبوب رکھتا ہوں۔ عن ذکر ربی لاجل ذکر ربی پھر سامنے لانے کا حکم دیا اور ان کے سامنے سے وہ گھوڑے جن پر لوگ سوار تھے۔ دوڑاتے ہوئے نکلے، حتیٰ تو ارت بالحجاب یہاں تک کہ نظروں سے غائب ہوگئے۔ (التواری الاستتار عن الابصار و الحجاب یححبھا عن الابصار) پھر حکم دیا ردوھا علی کہ ان کو پھر لوٹ کر لائو، میرے پاس۔ گھوڑی کی روانگی دیکھنے کا یہی طریقہ ہے کہ ایک بار دوڑاتے ہوئے لے جاتے ہیں۔ بارِدگر پھر لاتے ہیں، تاکہ آنے جانے میں سب حسن و قبح معلوم ہوجاوے۔ گھوڑے آپ کے پسند آئے۔ فطفق مسحابالسوق والاعناق (قال ابوعبیدۃ طفق یفعل لان خبرطفق لایکون الافعلا مضارعاو انتصاب مسحا علی المصدریۃ بفعل مقدر ای یمسح مسحاً ) والسوق جمع ساق ٹانگ۔ والاعناق جمع عنق (گردن) تو آپ پیار کی راہ سے ان کی گردنوں اور ٹانگوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔ گردن اور پٹھے پر ہاتھ پھیرنے کا عام طریقہ ہے یا ان کے عیوب دیکھتے ہوں گے۔ اکثر ہاتھ پھرا کر دیکھا کرتے ہیں، جس طرح دوڑا کر دیکھا کرتے ہیں، اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ لوگوں کو خصوصاً سلیمان ( علیہ السلام) کے دشمنوں کو معلوم ہوجاوے کہ سلیمان کو لشکر اور سواروں کے بارے میں بڑی مستعدی ہے، یہ بھی دشمن پر اثر ڈالا کرتا ہے کہ وہ غافل نہیں ہے۔ ابن عباس ؓ نے بھی مسح کے یہی معنی بیان کئے ہیں، جیسا کہ اپنی تفسیر میں ابن جریر نے بروایت علی بن طلحہ نقل کیا ہے۔ امام رازی (رح) نے انہیں معنی کو جو ہم نے آیات کے بیان کئے ہیں، پسند کیا ہے اور یہ بھی فرمادیا کہ یہی معنی آیات کے الفاظ کے نہایت مطابق ہیں اور خوب موافق ہیں اور اس تقریر پر کوئی الزام بھی عائد نہیں ہوتا اور مجھ کو لوگوں سے سخت تعجب آتا ہے کہ کس لیے انہوں نے ان بےہودہ باتوں کو مان لیا کہ جن کو عقل و نقل رد کرتی ہے۔
Top