Tafseer-al-Kitaab - An-Nisaa : 134
اِ۟لَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَاِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًاؕ
الَّذِيْنَ : جو لوگ يَتَّخِذُوْنَ : پکڑتے ہیں (بناتے ہیں) الْكٰفِرِيْنَ : کافر (جمع) اَوْلِيَآءَ : دوست مِنْ دُوْنِ : سوائے (چھوڑ کر) الْمُؤْمِنِيْنَ : مومن (جمع) اَيَبْتَغُوْنَ : کیا ڈھونڈتے ہیں ؟ عِنْدَھُمُ : ان کے پاس الْعِزَّةَ : عزت فَاِنَّ : بیشک الْعِزَّةَ : عزت لِلّٰهِ : اللہ کے لیے جَمِيْعًا : ساری
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر نازل کی ہے اور ان کتابوں پر جو (اس سے) پہلے (دوسرے پیغمبروں پر) نازل کی تھیں اور (یاد رکھو، ) جو شخص اللہ کا منکر ہوا اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں کا اور اس کے رسولوں کا اور روز آخرت کا تو وہ (راہ راست سے) بڑی دور بھٹک گیا۔
[85] یعنی خلوص دل کے ساتھ ایمان لاؤ اور سچے مومن بنو۔ [86] ان میں سے ہر عقیدے پر فرداً فرداً ایمان لانا ضروری ہے اور ان میں سے کسی ایک عقیدے سے بھی انکار دائرہ اسلام سے خارج کردینے کے لئے کافی ہے۔
Top