Madarik-ut-Tanzil - Saad : 70
اِنْ یُّوْحٰۤى اِلَیَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ
اِنْ يُّوْحٰٓى : نہیں وحی کی جاتی اِلَيَّ : میری طرف اِلَّآ : سوائے اَنَّمَآ : یہ کہ اَنَا نَذِيْرٌ : میں ڈرانے والا مُّبِيْنٌ : صاف صاف
میری طرف تو یہی وحی جاتی ہے کہ میں کھلم کھلا ہدایت کرنے والا ہوں
70: اِنْ یُّوْحٰٓی اِلَیَّ اِلَّآ اَنَّمَآ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ (میرے پاس وحی صرف اس سبب سے آتی ہے کہ میں صاف صاف ڈرانے والا ہوں) یعنی اس لئے کہ میں کھلا ڈرانے والا ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ میرے پاس وحی ڈر سنانے کے لئے ہوتی ہے۔ نحو : لام کو حذف کردیا گیا اور فعل کو اس تک پہنچا کر منصوب ہوا اور یہ بھی درست ہے کہ اس معنی کے لحاظ سے یہ مرفوع ہو مایوحی الی الا ھذا وھو أن انذروا بلغ ولا افرّط فی ذٰلک یعنی مجھے صرف اسی بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں ڈرائوں اور بلا کم وکاست پہنچا دوں۔ اس کے علاوہ اور کچھ میرے ذمہ نہیں۔ قراءت : اِنَّمَآ کو مکسور یزید نے حکایۃً پڑھا ہے۔ یعنی الا ھذا القول وھو ان اقول لکم انما انا نذیر مبین ولا ادعی شیئا آخر، مگر یہ قول کہ میں تمہیں کہوں انما انا نذیر مبین اس کے علاوہ اور کسی چیز کا دعوی نہ کروں۔ ایک قول یہ ہے النبا ٔ العظیم سے مرادقصص آدم (علیہ السلام) اور بغیر کسی سے سننے کے ان کی اطلاع دینا۔ قول ابن عباس ؓ : النبأ العظیم سے قرآن مجید مراد ہے۔ قول حسن (رح) قیامت کا دن مراد ہے۔ اور ملا ٔ اعلیٰ سے اصحاب القصہ۔ یعنی ملائکہ، آدم، ابلیس مراد ہیں کیونکہ وہ آسمان میں تھے اور گفتگو ان کے مابین ہوئی۔ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ (جبکہ وہ گفتگو کر رہے تھے) یہ محذوف سے متعلق ہے اس کا معنی یہ ہے ماکان لی من علم بکلام الملأ الا علی وقت اختصامہم مجھے کوئی علم نہ تھا۔ ملأ اعلیٰ کی گفتگو کا جب کہ وہ آپس میں مصروف گفتگو تھے۔
Top