Mualim-ul-Irfan - Saad : 26
یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَیُضِلَّكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ۠   ۧ
يٰدَاوٗدُ : اے داؤد اِنَّا : بیشک ہم نے جَعَلْنٰكَ : ہم نے تجھے بنایا خَلِيْفَةً : نائب فِي الْاَرْضِ : زمین میں فَاحْكُمْ : سو تو فیصلہ کر بَيْنَ النَّاسِ : لوگوں کے درمیان بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ وَلَا تَتَّبِعِ : اور نہ پیروی کر الْهَوٰى : خواہش فَيُضِلَّكَ : کہ وہ تجھے بھٹکا دے عَنْ : سے سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ : اللہ کا راستہ اِنَّ : بیشک الَّذِيْنَ : جو لوگ يَضِلُّوْنَ : بھٹکتے ہیں عَنْ : سے سَبِيْلِ اللّٰهِ : اللہ کا راستہ لَهُمْ : ان کے لیے عَذَابٌ : عذاب شَدِيْدٌۢ : شدید بِمَا : اس پر کہ نَسُوْا : انہوں نے بھلا دیا يَوْمَ الْحِسَابِ : روز حساب
اے داؤد (علیہ السلام) بیشک ہم نے بنایا تجھ کو نائب زمین میں پس فیصلہ کر لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ ، اور نہ پیروی کرنا خواہش کی پس یہ تجھے بہکا دیگی اللہ کے راستے سے ، بیشک وہ لوگ بہکتے ہیں اللہ کے راستے سے ان کے لیے عذاب ہے سخت ، اس وجہ سے کہ انہوں نے فرامود کردیا حساب کے دن کو۔
ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ نے کفار کی طعن وتشنیع اور غلط بیانی پر حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کو صبر کی تلقین کی ، پھر حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ بیان فرمایا کہ وہ بھی ابتدا آپ کی طرح نادار ہی تھے کوئی جدی پشتی بادشاہ نہیں تھے نہ ان کے پاس مال و دولت تھا مگر اللہ نے انکو بےانتہا قوت عملی عطا فرمائی تھی ، انہوں نے سخت محنت اٹھائی اور جہاد میں کامیابی حاصل کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت اور خلافت دونوں چیزیں عطا فرمائیں ۔ فرمایا آپ مطمئن رہیں ، اللہ تعالیٰ آپ کو بھی وسیع سلطنت عطا کرے گا ، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی آزمائش کا تذکرہ کیا کچھ لوگ دیوار پھاند کر ان کے عبادت خانے میں داخل ہوگئے ، جس کی وجہ سے وہ گھبرا گئے اور عبادت خانے کا نظام درہم برہم ہوگیا ان کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو سجدہ ریز ہوگئے اور اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کی ، اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ کوتاہی معاف فرما دی اور بلند مرتبہ عطا فرمایا ، وہ اللہ کے ہاں اچھے ٹھکانے کے مکین ہیں ۔ (خلافت ارضی) اب آج کی ابتدائی آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی خلافت ارضی کا ذکر فرما کر ان کو اس کے اصولوں اور فرائض سے آگاہ کیا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” یداؤد انا جعلنک خلیفۃ فی الارض “۔ اے داؤد (علیہ السلام) ہم نے آپ کو زمین میں نیابت یا خلافت بخشی ہے بنیادی طور پر اللہ تعالیٰ نے خلافت ارضی حضرت آدم (علیہ السلام) کے سپرد کی تھی جیسا فرمایا (آیت) ” واذ قال ربک للملئکۃ انی جاعل فی الارض خلیفۃ “۔ (البقرہ ، 30) جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں جو زمین پر میرا نظام جاری کرے ، توخلیفہ کا معنی نائب ہوتا ہے جو کسی دوسری اعلی ذات کی طرف سے کسی کام کو انجام دے اور پھر آدم (علیہ السلام) کی وساطت سے اللہ تعالیٰ نے خلافت کا یہ بار نسل انسانی میں منتقل کردیا ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے عام لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا بھلا کون پہنچتا ہے مضطرب کی پکار کو جب وہ اس کو پکارتا ہے اور اس کی تکلیف کو رفع کردیتا ہے (آیت) ” ویجعلکم خلفآء الارض (النمل : 62) اور تمہیں زمین میں نائب بناتا ہے ، ظاہر ہے کہ نسل اور خاندان کے اعتبار سے ہم اپنے آباؤ و اجداد کے نائب ہیں ، جب وہ نہیں رہے تو ان کی نیابت ہم انجام دے رہے ہیں ، اور جب ہم نہیں ہوں گے تو ہمارے جانشین آئندہ آنے والے لوگ ہوں گے اور کہیں خلافت ونیابت الہی سے مراد اللہ تعالیٰ کے احکام و فرامین کو زمین میں نافذ کرنا ہے آدم (علیہ السلام) کی خلافت سے اللہ تعالیٰ کی یہی مراد ہے اور پھر نفاذ احکام الہی کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے نسلا بعد نسل آنے والے لوگوں پر ڈال دی ، اور فرمایا کہ ہم نے تمہیں زمین پر خلافت عطا کی ، سورة نور میں موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ اور آپ کی امت سے وعدہ فرمایا تھا (آیت) ” لیستخلفنھم فی الارض کما استخلف الذین من قبلھم “۔ (آیت ، 55) میں انہیں زمین میں ایسی ہی خلافت بخشوں گا جیسی پہلے لوگوں کو عطا کی گئی پھر اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو مخاطب کرے ، وعدہ فرما کر ان کو بتلا دیا کہ خلافت ارضی کے حصول کے لیے بعض شرائط بھی پوری کرتا ہوں ، چناچہ ان شرائط میں ایک شرط ہجرت بھی تھی یعنی خلافت کا حقدار وہ ہوگا جو اپنا گھر بار اور وطن اللہ تعالیٰ کے دین پر قربان کر دیگا یہ شرط چاروں خلفائے راشدین میں پائی جاتی تھی ، لہذا خلافت کے اس وعدے کو اللہ تعالیٰ نے اس امت کے ابتدائی دور میں پورا فرما دیا اور خلفائے راشدین کو بےمثال خلافت عطا فرمائی موسیٰ (علیہ السلام) بھی اللہ تعالیٰ کے صاحب کتاب اور صاحب شریعت رسول تھے اور ساتھ ساتھ آپ خلیفہ فی الارض بھی تھے اسی طرح بعض دوسرے انبیاء اور لوگوں کو بھی نیابت عطا ہوئی جن میں حضرت داؤد (علیہ السلام) اور آپ کے فرزند حضرت سلیمان (علیہ السلام) بھی شامل ہیں ۔ (فرائض خلافت (1) عادل) اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو زمین میں خلافت عطا فرمائی تو اس کے ساتھ کچھ فرائض اور ذمہ داریاں بھی سپرد کیں ، چناچہ پہلی ذمہ داری یہ ڈالی (آیت) ” فاحکم بین الناس بالحق “۔ آپ لوگوں کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں دوسری جگہ ارشاد خداوندی ہے اسے اے پیغمبر ﷺ ہم نے آپ کی طرف یہ کتاب نازل کی ہے (آیت) ” انا انزلنا الیک الکتب بالحق لتحکم بین الناس “۔ (النسائ : 105) تاکہ آپ لوگوں کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کریں پھر اللہ تعالیٰ نے عدل و انصاف کو عام لوگوں کے لیے بھی ضروری قرار دیا لوگو ! (آیت) ” اعدلوا ھو اقرب للتقوی “۔ (المآئدۃ ، 8) انصاف کرو کہ یہ چیز تقوی کے قریب تر ہے ، یہ تو محض ترغیب تھی آگے اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا (آیت) ” ان اللہ یامر بالعدل والاحسان “۔ (النحل ، 9) اللہ تعالیٰ عدل و انصاف اور نیکی کا حکم دیتا ہے حضور ﷺ کا فرمان بھی ہے ” مامن عبد یستمر عیہ اللہ رعیۃ یموت یوم یموت وھو غاش لرعیتہ الا حرم اللہ علیہ الجنۃ “َ جس بندے کو اللہ تعالیٰ رعیت کا راعی ، حاکم ، امیر یا خلیفہ بنا دے اور پھر وہ رعیت کے حکم میں خیرخواہی نہ کرے ، تو فرمایا ایسا شخص جہنم کا سزاوار ہوگا ، اللہ تعالیٰ رعیت کے لوگوں کو تو ایمان اور سلامتی کے ساتھ جنت میں پہنچا دے گا مگر ظالم اور غیر عادل حکمرانوں کو جہنم میں داخل کیے بغیر نہیں چھوڑے گا ، خلافت ایک امانت ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے سپرد کی ہے اور یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے جس سے عہدہ برآ ہونا ضروری ہے ۔ (2) خواہش کا عدم اتباع) اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) سے فرمایا کہ خلافت کی پہلی ذمہ داری تو یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان عدل کرو اور دوسری یہ (آیت) ” ولا تتبع الھوی “۔ اور آپ خواہش کی پیروی نہ کریں اگر ایسا کیا (آیت) ” فیضلک عن سبیل اللہ “ تو یہ چیز آپ کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے بہکا دی گی گمراہی کے اسباب میں سے خواہش کی پیروی بھی ایک سبب ہے اور یہ بہت بری خصلت ہے کہ حق و انصاف پر مبنی فیصلہ کرنے کی بجائے کوئی شخص اپنی مرضی چلائے اتباع ہوی اس مہلک بیماری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” افرء یت من اتخذ الہہ ھوہ “۔ (الجاثیہ ۔ 23) کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے جس نے خواہش کو ہی معبود بنا لیا ہے اس کی ڈور خواہش کے ہاتھ میں ہے وہ جدھر چاہتی ہے آدمی کو لے جاتی ہے اور انسان عدل و انصاف کو یکسر فراموش کردیتا ہے ، حدیث شریف سے یہ مفہوم بھی اخذ ہوتا ہے کہ جس چیزوں کی دنیا میں پوجا کی جاتی ہے ان میں سب سے خطرناک چیز انسان کی خواہش ہوتی ہے گویا حق کے راستے میں ایک رکاوٹ تو خواہش ہے اور دوسری رشوت ہے ، یہ بھی مہلک بیماری ہے جس کو لگ جائے جہنم میں پہنچائے بغیر نہیں چھوڑتی ، فرمایا تیسری چیز جہالت ہے کہ انسان حقیقت حال معلوم کیے بغیر لاعلمی میں ہی کوئی فیصلہ کر دے ان تینوں قسم کے لوگوں کو حضور ﷺ نے جہنم کی وعید سنائی ہے ۔ (خلیفہ ولید کے سامنے حق گوئی) مروان کے چاروں بیٹے اور آگے ان کی اولاد خاندان بنو امیہ کے خلیفہ گزرے ہیں کسی نے ولید ابن عبدالملک خلیفہ وقت پر نکتہ چینی کی ، ظاہر ہے کہ وہ بھی کوئی بڑا آدمی ہوگا ، وگرنہ معمولی آدمی تو خلیفہ کے متعلق ایسی بات نہیں کرسکتا اس شخص کی تنقید سن کر خلیفہ نے کہا کیا خلفاء کے متعلق بھی ایسی بات کی جاسکتی ہے ؟ میں چھتیس لاکھ مربع میل جیسی وسیع سلطنت کا خلیفہ ہوں اور تم مجھ سے ایسی بات کرتے ہو ، وہ شخص صاحب علم تھا کہنے لگا امیر المؤمنین ! یہ بتائیں کہ آپ کی حیثیت زیادہ ہے یا حضرت داؤد (علیہ السلام) کی جو منصب خلافت پر متمکن ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ کے صاحب کتاب اور صاحب شریعت نبی اور رسول بھی تھے ، ان کو اللہ نے یہی حکم دیا تھا ۔ (آیت) ” فاحکم بین الناس بالحق ولا تتبع الھوی “ یعنی لوگوں کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا اور خواہشات کی پیروی نہ کرنا داؤد (علیہ السلام) تو اللہ تعالیٰ کے معصوم نبی تھے پھر بھی آپ کو یہ حکم دیا گیا تھا ، تو آپ اپنے آپ کو کیا حیثیت دیتے ہیں جب کہ آپ صرف خلیفہ ہیں اور آپ کو نہ نبوت عطا کی گئی ہے نہ کتاب اور نہ شریعت ، مزید برآں داؤد (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے براہ راست خلافت عطا فرمائی تھی (آیت) ” یدؤد انا جعلنک خلیفۃ فی الارض “۔ اے داؤد (علیہ السلام) ہم نے آپ کو زمین میں خلافت عطا کی ہے جب کہ آپ تو نسلی طور پر خلیفہ ہیں بات درست تھی لہذا ولید کوئی جواب نہ دے سکا ۔ (حکام کے لیے وعید) آگے اللہ تعالیٰ نے خلفاء حکام ، قاضیوں اور ججوں کو وعید بھی سنائی ہے (آیت) ” ان الذین یضلون عن سبیل اللہ “۔ جو شخص لوگ خواہش کا اتباع کرکے اللہ کے راستے سے بہک جاتے ہیں اور عدل و انصاف کا دامن چھوڑ بیٹھتے ہیں (آیت) ” لھم عذاب شدید “۔ ان کے لیے سخت عذاب ہوگا ، اس کی وجہ یہ ہے (آیت) ” بما نسوا یوم الحساب “۔ کہ انہوں نے حساب کے دن یعنی محاسبہ اعمال کو بھلا دیا ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ وعید کسی خاص خلیفہ ، خاص قوم یا خاص زمانے کے لیے نہیں بلکہ یہ وعید ہر زمان ومکان کے خلفاء ، حاکموں ، ججوں ، قاضیوں اور صاحب اقتدار لوگوں پر یکساں طور پر لوگو ہے جو بھی اللہ تعالیٰ کی وعید کی زد میں آئے گا ، عذاب شدید کا مستوجب ہوگا ، جج ایک بااختیار حاکم ہوتا ہے جو دائرہ قانون میں رہتے ہوئے اپنی صوابدید کے مطابق فیصلہ کرنے کا مجاز ہوتا ہے ، لہذا اگر وہ حق و انصاف سے انحراف کرکے رشوت ، سفارش ، خواہش یا اقرباپروری کو فیصلے کی بنیاد بنائے گا تو ظاہر ہے کہ وہ ظالموں کی فہرست میں شمار ہوگا ، اور ابدی سزا کا مستحق بنے گا ، آج ہم اپنے معاشرے پر نگاہ ڈالیں تو پتہ چلے گا کہ حق و انصاف کا دورہ دورہ ہے یا ظلم وجور کا ، ہر حکومت سستا انصاف مہیا کرنے کا دعوی کرتی ہے مگر یہ آج تک کسی کو حاصل نہیں ہوا۔ الا ما شاء اللہ ، آج کے زمانے میں تو انصاف خریدنا پڑتا ہے ، جس کے پاس پونجی ہے اس کے حق میں فیصلہ ہوجائے گا اور دوسرا فریق منہ دیکھتا رہ جائے گا ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی وعید سے ڈر جانا چاہئے اور عدل و انصاف کو قائم کرنا چاہئے ۔ (وقوع قیامت اور انصاف) اس دنیا میں تو حصول انصاف جوئے شیر لانے سے کم نہیں ایک تو حکام ، قاضی اور ججوں کی غفلت ، پھر ان میں خواہش ، رشوت اور سفارش کی لعنت ، مقدمات کی پیچیدگی اور وکلاء کی طرف سے حقائق پوشی اور عدالتوں کو گمراہ کرنے کی کوشش ، ایسے انصاف کہاں سے آئے گا ؟ کم از کم اس دنیا میں تو انصاف کا حصول ممکن نظر نہیں آتا ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو ٹھیک ٹھیک انصاف مہیا کرنے کے لیے یوم الدین یعنی انصاف کا ایک دن مقرر کیا ہے اس دن تمام فیصلے قطعی اور مبنی برحق و انصاف ہوں گے کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی ، اور ہر حقدار کو پورا پورا حق دیا جائے گا آج تو مجرم بچ جاتے ہیں اور بےگناہ پھنس جاتے ہیں مگر وہاں ایسا نہیں ہوگا یہ قیامت کا دن ہوگا جب اللہ تعالیٰ کی عدالت لگے گی جہاں ہر شخص کو فردا فردا پیش ہو کر اپنا حساب چکانا ہوگا ، اور جہاں کسی کی طرف سے کوئی وکیل بھی پیش نہیں ہوگا ، صحیح فیصلے اس وقت ہی ہوں گے چناچہ وقوع قیامت اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس دنیا میں کی گئی ظلم و زیادتی اور حق تلفی کی تلافی ہو سکے اور ٹھیک ٹھیک فیصلے ہو سکیں آج اگر دنیا میں حق و انصاف کا دور دورہ شروع ہوجائے تو یہ زمین بھی امن وامان کا گہوارہ بن جائے ، اور سارا شروفساد مٹ جائے ۔ (مقصد تخلیق انسانی) آگے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے بعض حقائق تذکرہ فرمایا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وما خلقنا السمآء والارض وما بینھما باطلا “۔ ہم نے آسمان و زمین اور ان دونوں کے درمیان کی چیزوں کو محض بیکار پیدا نہیں کیا تم سمجھتے ہو کہ نظام کائنات خود بخود بغیر کسی خرابی کے چل رہا ہے فرمایا ایسی بات نہیں ہے بلکہ یہ پورا نظام اللہ تعالیٰ کی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کا شاہکار ہے اللہ تعالیٰ نے اس کو فضول پیدا نہیں کیا بلکہ اس کا کچھ مقصد ہے ، فرمایا اگر کوئی سمجھتا ہے کہ کائنات کا پورا نظام فضول ہے اس کی کوئی افادیت نہیں اور نہ اس کا کوئی خاص نتیجہ برآمد ہونے والا ہے بلکہ انسان دنیا میں ایک حادثے کے طور پر آتا ہے زندگی پوری کرتا ہے اور چلا جاتا ہے نہ آنے کا کوئی مقصد اور نہ جانے کا کوئی مطلب فرمایا (آیت) ” ذلک ظن الذین کفروا “۔ یہ تو کفر کرنے والوں کا گمان ہے ایسا خیال تو وہی کرے گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کی قدرت کا ہی منکر ہے وگرنہ کوئی صاحب ایمان اور صاحب عقل شعور آدمی ایسی بات نہیں کرسکتا ، زمین اور آسمان کے درمیان پیدا ہونے والی مخلوقات میں اشرف المخلوقات خود انسان کا وجود ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ایحسب الانسان ان یترک سدی “۔ (القیمۃ ، 36) کیا انسان خیال کرتا ہے کہ اسے یونہی بیکار چھوڑ دیا جائے گا ؟ ہم نے تو اسے بیکار محض پیدا نہیں کیا بلکہ اسے اپنی حکمت اور مصلحت کے تحت خاصل مقصد کے لیے پیدا کیا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون “۔ (الذریت ۔ 56) ہم نے جنوں اور انسانوں کو اپنی عادت کے لیے پیدا کیا ہے تخلیق حیات کا مقصد اللہ تعالیٰ کی پہچان ہے ، یہ سلسلہ دنیا کا آغاز ہے اور ظاہر ہے کہ جس چیز کا آغاز ہے اس کا انجام بھی ضرور ہوگا ، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کو قطعی جزایا سزا ملنے والی ہے ، اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے قیامت کا دن مقرر کیا ہے ، لہذا اس سارے نظام کو باطل تصور کرنا کافروں کا شیوہ ہی ہو سکتا ہے فرمایا (آیت) ” فویل للذین کفروا من النار “۔ پس تباہی اور بربادی ہے آگے سے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا ، انہیں جہنم کی آگ کا مزہ چکھنا ہوگا ۔ (نیک وبد میں امتیاز) آگے اللہ تعالیٰ نے تفہیم کے انداز میں فرمایا ہے (آیت) ” ام نجعل الذین امنوا وعملوا الصلحت کا لمفسدین فی الارض “۔ کیا ہم اہل ایمان اور اعمال صالحہ انجام دینے والوں کو فساد فی الارض کرنے والوں کے برابر کردیں گے ؟ ایک طرف اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لانے والے اور اچھے کام کرنے والے ہیں اور دوسری طرف کافر ، مشرک اور بدعتی ہیں ، ظلم و زیادتی اور قتل وغارتگری کرنے والے لوگ ہیں ، لوگوں کے حقوق کے غاصب ہیں ، دین اور شریعت کے مخالف ہیں ان لوگوں کے اخلاق ، عمل اور اعتقاد میں فساد بھرا ہوا ہے تو یہ مومنوں اور اعمال صالحہ انجام دینے والوں کی طرف کیسے ہو سکتے ہیں ؟ فرمایا ہر ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا ہے ، نیز فرمایا (آیت) ” ام نجعل المتقین کا لفجار “۔ کیا ہم اللہ تعالیٰ کے متقی اور پرہیز گار بندوں کو جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ہیں فاجروں اور فاسقوں کے برابر لے آئیں گے ؟ یہ تو بےانصافی اور اندھیر نگری کی بات ہوگی ، اس کو عقل سلیم بھی تسلیم نہیں کرتی ، چہ جائیکہ اللہ تعالیٰ ایسا کرے جو احکم الحاکمین اور سب سے زیادہ انصاف کرنے والا ہے ۔ نیکی اور بدی میں امتیاز کو سمجھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم الشان کتاب نازل فرمائی ہے جس کے متعلق ارشاد ہے (آیت) ” کتب انزلنہ الیک “ اے پیغمبر ﷺ ہم نے آپ کی طرف یہ کتاب نازل فرمائی ہے ، ” مبرک “ جو کہ بڑی ہی بابرکت ہے مگر یہ برکات اس شخص کے لیے ہیں جو اس کو اللہ تعالیٰ کی سچی کتاب تسلیم کرتا ہے اور اس سے استفادہ کرنا چاہتا ہے جو لوگ اس کتاب کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کے پروگرام کے راستے میں روڑے اٹکاتے ہیں ان کے لیے یہ کتاب بابرکت نہیں ہوسکتی بلکہ (آیت) ” ولا یزید الظلمین الا خسارا “۔ (بنی اسرائیل 82) ایسے لوگوں کے لیے تو یہ کتاب مزید نقصان کو باعث ہوسکتی ہے ۔ البتہ (آیت) ” ماھو شفاء ورحمۃ للمؤمنین “۔ (بنی اسرائیل ، 82) اہل ایمان کے لیے یہ شفا اور رحمت ہے بہرحال فرمایا حق و باطل ، نیک ، بد ، اہل ایمان اور فاسق وفاجر میں امتیاز کرنے کے لیے اس کتاب کو کلیدی حیثیت حاصل ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے ۔ (تدبر فی القرآن) اور اس کتاب کی غایت یہ ہے (آیت) ” لیدبروا ایتہ “۔ تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور وفکر کریں ظاہر ہے کہ نیک وبد میں امتیاز بھی ۔۔۔۔۔۔ ہوگا جب کلام الہی میں غور خوض کیا جائے گا ، اور غور کا ادنی درجہ یہ ہے کہ آدمی اس کتاب کو سنے پھر دوسرا درجہ اس کے سمجھنے کا ، تیسرا اس کے اصولوں کو جاننے کا ، چوتھا اس پر عمل کرنے کا اور پانچواں درجہ اس کو آگے پہنچانے کا ہے گویا تدبر میں الفاظ بھی شامل ہیں ، معانی بھی اور اصول بھی ، اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو اس زمانے میں کوئی بھی شخص اللہ کی کتاب میں غور وفکر کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا کسی نے بہت زیادہ کیا تو تھوڑی بہت خالی تلاوت کرلی اور بس ، وگرنہ اس کتاب حکیم کے معانی ومطالب کو سمجھ کر اس پر عمل کرنا تو بہت دور کی بات ہے ، مگر جب ہم ماحول پر نگاہ ڈالتے ہیں تو اس زمانے میں محض تلاوت کرلینا بھی بس غنیمت ہے کچھ عرصہ پہلے تک مرد وزن صبح کی نماز ادا کرتے ، اس کے بعد ہر گھر سے تلاوت قرآن پاک کی آوازیں آیا کرتی تھیں مگر آج وہ آوازیں ختم ہو کر ریڈیو اور ٹیلیویژن کی آوازیں رہ گئیں ہیں جو ہر گھر سے صبح وشام سنائی دیتی ہیں ، تاہم اس کتاب کا اصل مقصد خالی تلاوت نہیں بلکہ اس کو سمجھنا اور غور و تدبر کرنا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے کتاب کی دوسری غرض یہ بیان فرمائی ہے (آیت) ” ولیذکر اولوالالباب “۔ تاکہ عقل مند لوگ نصیحت حاصل کریں ، ظاہر ہے کہ نصیحت تو جبھی حاصل ہوگی جب لوگ اس کو سمجھنے کی کوشش کریں گے ، اگر اس کو سمجھنے کی کوشش ہی نہ کی گئی اور محض چوم چاٹ کر اور غلاف میں لپیٹ کر رکھ دیا گیا تو نصیحت کیسے آئیگی ؟ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کرنا قرآن کریم کے ساتھ غداری کرنے کے مترادف ہے ، اس میں کوئی شک نہیں کہ اس عظیم المرتبت کتاب کی ظاہری تعظیم بھی ضروری ہے اور حضور ﷺ نے اس کی بھی تاکید فرمائی ہے مگر یہ مقصود ومنتہا تو نہیں ہے اس کی غایت تو اس کو سمجھ کر اس پر عمل کرنا اور پھر دوسروں تک پہنچانا ہے تاکہ سارے صاحب عقل لوگ اس سے مستفید ہو سکیں ۔ نیکی اور بدی میں اس امتیاز کی وضاحت کے بعد اگلی آیات کا ربط پھر سابقہ مضمون کے ساتھ ہوگا ، داؤد (علیہ السلام) کے تذکرہ کے بعد آگے اللہ تعالیٰ نے آپ کے جلیل القدر فرزند اور اللہ تعالیٰ کے عظیم الشان نبی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے بعض واقعات بیان فرمائے ہیں ان کو بھی زندگی میں پریشانی لاحق ہوئی تو انہوں نے بھی صبر کیا حضور خاتم النبیین ﷺ کو بھی فرمایا جا رہا ہے کہ آپ بھی سابقہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ، مصائب و تکالیف پر صبر کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رہیں۔
Top