Tafseer-e-Saadi - Yaseen : 21
اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْئَلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ
اتَّبِعُوْا : تم پیروی کرو مَنْ : جو لَّا يَسْئَلُكُمْ : تم سے نہیں مانگتے اَجْرًا : کوئی اجر وَّهُمْ : اور وہ مُّهْتَدُوْنَ : ہدایت یافتہ
ایسوں کے لیے جو تم سے صلہ نہیں مانگتے اور وہ سیدھے راستے پر ہیں
آیت 21 آپ کی رسالت کی تکذیب کرنے اور آپ کی دعوت کو ٹھکرا دینے والوں کے سامنے آپ یہ مثال بیان کردیجیے، جس سے یہ لوگ عبرت حاصل کریں۔ اگر یہ غور کریں تو یہ مثال ان کے لئے نصیحت ہوگی۔ یہ ان بستی والوں کی مثال ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا۔ اگر بستی کے تعین میں کوئی فائدہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کا تعین فرما دیتا، لہٰذا بستی کے نام کے تعین کے در پے ہونا تکلف اور بلاعلم کلام کے زمرے میں آتا ہے۔ جو کوئی اس قسم کے معاملے میں بلاعلم گفتگو کرتا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ اس کی گفتگو بےتکی ہوتی ہے اور وہ اختلاف میں مبتلا ہے جس کو دوام نہیں۔ اس سے آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ علم صحیح کا طریق حقائق کے سامنے سر تسلی خم کرنا اور ان امور میں تعرض کو ترک کرنا ہے جن کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس طریقے سے نفس پاک ہوتا ہے اور علم میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ جاہل سمجھتا ہے کہ عمل میں اضافہ ان اقوال کے بیان کرنے سے ہے جن کی کوئی دلیل نہیں اور ان اقوال کو بیان کرنے سے ذہن کو تشویش میں مبتلا کرنے اور اسے مشکوک امور کا عادی بنانے کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو مخاطبین کے لئے مثال قرار دیا۔ (اذ جآء ھا المرسلون) ” جب ان یک پاس رسول آپے۔ “ اس بستی میں اللہ تعالیٰ کے رسول مبعوث ہوئے جو انہیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور دین کو صرف اسی کے لئے خلاص کرنے کا حکم دیتے تھے اور انہیں شرک اور معاصی سے منع کرتے تھے۔ (اذ ارسلنا الیھم اثنین فکذبوھما فعززنا بثالث) ” جب ہم نے ان کے پاس دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کو جھٹلایا پھر ہم نے تیسرے سے (ان کی) تائید کی “ یعنی ہم نے تیسرے کے ذریعے سے ان دونوں کو قوت عطا کی چناچہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایت خاص اور حجت کے طور پر پے در پے رسول بھیجنے سے ان کی تعداد تین ہوگئی (فقالوآ) تو رسولوں نے ان سے کہا : (انا الیکم مرسلون) ” بلا شبہ ہم تمہاری طرف رسول ہو کر آئے ہیں۔ “ اور انہوں نے رسولوں کو ایسا جواب دیا جو انبیاء ومرسلین کی دعوت کو ٹھکرانے والوں کے ہاں مشہور ہے۔ (قالوا ما انتم الا بشر مثلنا ” انہوں نے کہا : تم تو محض ہماری طرح کے آدمی ہو۔ “ یعنی کس بنا پر تمہیں ہم پر فضیلت اور خصوصیت حاصل ہے۔ دیگر رسولوں نے بھی اپنی امتوں سے کہا تھا : (ان نحن الا بشر مثلکم ولکن اللہ یمن علی من یشآء من عبادہ) (ابراہیم :11/13) ” ہم تمہاری ہی طرح بشر ہیں مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے۔ “ (وما انزل الرحمٰن من شیء) ” اور رحمان نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔ “ یعنی انہوں نے رسالت کی عمومیت کا انکار کیا، پھر انہوں نے اپنے رسولوں سے مخاطب ہو کر ان کا انکار کرتے ہوئے کہا : (ان انتم الا تکذبون) ” تم تو جھوٹ بولتے ہو۔ “ ان تینوں رسولوں نے جواب دیا : (قالوا ربنا یعلم انا الیکم لمرسلون) ” ہمار رب جانتا ہے کہ یقیناً ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں “ اور اگر ہم جھوٹے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں سرعام رسوا کردیتا اور ہمیں فوراً سزا دے دیتا (وما علین الا البلغ المبین) ” اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے۔ “ یعنی ایسا پہنچا دینا جس سے ان تمام امور کی توضیح ہوجائے جن کا بیان کرنا مطلوب ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے وہ یا تو معجزات کا یا جلدی عذاب کا مطالبہ ہے، جو ہماریے اختیار میں نہیں۔ ہماری ذمہ داری تو واضح طور پر پہنچا دینا ہے جو ہم نے پوری کردی ہے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو کھول کھول کر تمہارے سامنے بیان کردیا ہے اگر تم نے راہ راست اختیار کرلی تو یہ تمہارا ہی نصیب ہے اور اگر تم گمراہ رہے تو ہمارے اختیار میں کچھ نہیں۔ بستی والوں نے اپنے رسولوں سے کہا : (انا تطیرنا بکم) ’ دبے شک ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔ “ یعنی ہم سمجھتے ہیں کہ تمہارے آنے اور ہمارے پاس جلیل ترین نعمت لے کر آئے۔۔۔ جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نوازتا ہے، ان کو وہ بلند ترین اکرام عطا کرے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے اور وہ سب سے زیادہ اسی چیز کے ضرورت مند ہوں۔۔۔ یہ کہا جائے کہ وہ شے لے کر آیا ہے جس نے ان کے شر میں اضافہ کردیا اور وہ اس کو نحوست خیال کریں۔ یہ لوگ صرف اور صرف خذلان اور عدم توفیق کی وجہ سے اپنے ساتھی کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جو دشمن کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔ پھر انہوں نے اپنے رسولوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا : (لئن لم تنتھو النرجمنکم) ” اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمہیں رجم کردیں گے۔ “ یعنی ہم تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کردیں گے جو ہلاکت کی بدترین شکل ہے (ولیمسنکم منا عذاب الیم) ” اور تمہیں ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی۔ “ ان کے رسولوں نے ان سے کہا : (قالوا طآئرکم معکم) ” تمہاری فال بد تو تمہارے ساتھ ہے “ اور اس سے مراد ان کا شرک اور برائی ہے جو عذاب کے واقع ہونے اور نعمت کے اٹھا لئے جانے کا تقاضا کرتے ہیں۔ (این ذکر تم) ” کیا اس لئے کہ تمہیں نصیحت کی گئی ؟ “ یعنی ہم نے تمہیں اس چیز کی یاد دہانی کرائی جس میں تمہاری بھلائی اور تمہارا فائدہ تھا اور اس کے مقابلے میں تم نے یہ کچھ کہا : (بل انتم قوم مسرفون) ” بلکہ تم اپنی بات میں حد سے تجاوز کرنے والے ہو۔ “ ان کو دعوت دینے سے ان کے تکبر اور نفرت میں اضافے کے سوا کچھ فائدہ نہ ہوا۔ (وجآء من اقضا المدینۃ رجل یسعی) ” ار شہر کے پر لے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا۔ “ یعنی جب اس نے رسولوں کی دعوت سنی تو وہ اپنی قوم کی خیر خواہی کے لئے دوڑتا ہوا آیا اور خود اس دعوت پر ایمان لے آیا۔ اسے معلوم ہوا کہ اس کی قوم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا : پس اس نے اپنی قوم سے کہا : (یقوم اتبعوا المرسلین) اس نے اپنی قوم کو رسولوں کی اتباع کا حکم دیا، ان کی خیر خواہی کی اور رسولوں کی رسالت کی شہادت دی۔ پھر اس نے اپنی شہادت اور دعوت کی تائید کا ذکر کرتے ہوئے کہا : (اتبعوا من لایسئلکم اجراً ) یعنی اس شخص کی اتباع کرو جو تمہاری خیر خواہی کرتا ہے، جو تمہارے لئے بھلائی لاتا ہے۔ وہ تم سے اس خیر خواہی اور راہنمائی پر تمہارے مال کا مطالبہ کرتا ہے نہ کوئی اجر چاہتا ہے اور جس کا یہ وصف ہو وہ قابل اتباع ہوتا ہے۔ باقی رہا یہ اعتراض کہ جو کسی اجرت کے بغیر دعوت دیتا ہے، ہوسکتا ہے وہ حق پر نہ ہو، اس لئے اس اعتراض کو رد کرنے کے لئے فرمایا : (وھم مھتدون) ” اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔ “ کیونکہ وہ صرف اسی چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں جس کے اچھا ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے اور صرف اسی چیز سے روکتے ہیں جس کے (قبیح) ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے۔ شاید اس شخص کی قوم نے اس کی نصیحت قوبل نہ کی بلکہ الٹا وہ اسے رسولوں کی اتباع اور اخلاص پر ملامت کرنے لگے۔
Top