Kashf-ur-Rahman - Yaseen : 21
اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْئَلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ
اتَّبِعُوْا : تم پیروی کرو مَنْ : جو لَّا يَسْئَلُكُمْ : تم سے نہیں مانگتے اَجْرًا : کوئی اجر وَّهُمْ : اور وہ مُّهْتَدُوْنَ : ہدایت یافتہ
تم ایسے لوگوں کی پیروی کرو جو تم سے تبلیغ پر کچھ معاوضہ طلب نہیں کرتے اور وہ ہدایت یافتہ لوگ ہیں۔
(21) تم ایسے لوگوں کی پیروی کرو جو تم سے تبلیغ پر کچھ اجرت اور معاوضہ طلب نہیں کرتے اور وہ خود بھی ہدایت یافتہ لوگ ہیں۔ یہ شخص کوئی پرانا مسلمان تھا یا ان ہی پیغمبروں کی تعلیم پر ایمان لایا تھا جب اس کو یہ معلوم ہوا کہ قوم کے آدمی پیغمبروں کی توہین اور قتل کا ارادہ کر رہے ہیں تو یہ گھبرا کر شہر کے آخری حصے میں جہاں یہ رہتا تھا وہاں سے بھاگا ہوا آیا اور قوم کو سمجھانے لگا کہ اے میری قوم تم ان رسولوں کی اتباع اور پیروی کرو کیونکہ یہ بےغرض لوگ ہیں دعوت و تبلیغ پر تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتے نہ کوئی معاوضہ طلب کرتے ہیں اور خود بھی راہ راست پر ہیں اور نیک لوگ ہیں پھر ان کے طریقے کو کیوں نہ اختیار کیا جائے اور ان کی پیروی کیوں نہ کرو بلکہ تم سب ان کی پیروی کرو۔ کہتے ہیں کہ اس شخص کا نام حبیب تھا یہ نجار یعنی بڑھئی یا دھوبی تھا۔ آگے اس نے خود اپنے پر رکھ کر توحید کی خوبیاں اور بتوں کی مذمت شروع کردی۔
Top