70. Al-Ma'aarijالمعارج
The Ascending Stairways · Meccan · 44 ayahs · 2 rukus · ڈاکٹر اسرار احمد
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ﴿1﴾
مانگا ایک مانگنے والے نے ایک ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہولِّلْكٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَهٗ دَافِعٌۙ﴿2﴾
کافروں کے لیے جس کو کوئی ٹال نہ سکے گا۔مِّنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِؕ﴿3﴾
(وہ عذاب اپنے وقت پر آئے گا) اس اللہ کی طرف سے جو بہت بلند درجات والا ہے۔تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ﴿4﴾
چڑھتے ہیں فرشتے اور روح اس کی جانب ایک دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہے۔فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا﴿5﴾
تو آپ ﷺ بڑی خوبصورتی سے صبر کیجیے۔اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ﴿6﴾
یہ لوگ تو اس (عذاب) کو دور سمجھ رہے ہیںوَّ نَرٰىهُ قَرِیْبًاؕ﴿7﴾
اور ہم اسے نہایت قریب دیکھ رہے ہیں۔یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِۙ﴿8﴾
جس دن آسمان ہوجائے گا جیسے پگھلا ہوا تانبا۔وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِۙ﴿9﴾
اور پہاڑ ایسے ہوجائیں گے جیسے دھنکی ہوئی روئی (یا رنگی ہوئی اُون)۔وَ لَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًاۚۖ﴿10﴾
اور کوئی دوست کسی دوسرے دوست کا حال نہیں پوچھے گا۔یُّبَصَّرُوْنَهُمْ١ؕ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍۭ بِبَنِیْهِۙ﴿11﴾
وہ سب انہیں دکھائے جائیں گے۔ اس روز مجرم چاہے گا کہ کاش وہ اس دن کے عذاب سے بچنے کے لیے فدیے میں دے دے اپنے بیٹوں کووَ صَاحِبَتِهٖ وَ اَخِیْهِۙ﴿12﴾
اور اپنی بیوی کو اور اپنے بھائی کووَ فَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُئْوِیْهِۙ﴿13﴾
اور اپنے کنبے کو جو اسے پناہ دیتا تھاوَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ ثُمَّ یُنْجِیْهِۙ﴿14﴾
اور روئے زمین پر بسنے والے تمام انسانوں کو پھر یہ (فدیہ) اس کو بچا لے !كَلَّا١ؕ اِنَّهَا لَظٰىۙ﴿15﴾
ہرگز نہیں ! اب تو یہ بھڑکتی ہوئی آگ ہی ہے۔نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰىۚۖ﴿16﴾
جو کلیجوں کو کھینچ لے گی۔تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰىۙ﴿17﴾
وہ پکارے گی ہر اس شخص کو جس نے پیٹھ موڑ لی تھی اور رُخ پھیرلیا تھاوَ جَمَعَ فَاَوْعٰى﴿18﴾
اور جو مال جمع کرتا رہا پھر اسے سینت سینت کر رکھتا رہا۔اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ﴿19﴾
یقینا انسان پیدا کیا گیا ہے تھڑدلا۔اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًاۙ﴿20﴾
جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جانے والا ہے۔وَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوْعًاۙ﴿21﴾
اور جب اسے بھلائی ملتی ہے تو بہت بخیل بن جاتا ہے۔اِلَّا الْمُصَلِّیْنَۙ﴿22﴾
سوائے نمازیوں کے۔الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآئِمُوْنَ۪ۙ﴿23﴾
جو اپنی نمازوں پر مداومت کرتے ہیں۔وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۪ۙ﴿24﴾
اور وہ جن کے اموال میں معین حق ہےلِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ۪ۙ﴿25﴾
مانگنے والے کا اور محروم کا۔وَ الَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ۪ۙ﴿26﴾
اور جو فیصلے کے دن کی تصدیق کرتے ہیں۔وَ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۚ﴿27﴾
اور جو اپنے رب کے عذاب سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ﴿28﴾
یقینا ان کے رب کا عذاب ایسا نہیں ہے کہ کوئی اس سے نڈرہو جائے۔وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ﴿29﴾
اور جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ﴿30﴾
سوائے اپنی بیویوں یا اپنی لونڈیوں کے تو ان لوگوں پر کوئی ملامت نہیں۔فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ﴿31﴾
تو جو کوئی بھی اس کے علاوہ کچھ چاہے گا تو وہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں۔وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ۪ۙ﴿32﴾
اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس کرنے والے ہیں۔وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآئِمُوْنَ۪ۙ﴿33﴾
اور وہ جو اپنی گواہیوں پر قائم رہنے والے ہیں۔وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَؕ﴿34﴾
اور وہ لوگ کہ جو اپنی نماز کی محافظت کرتے ہیں۔اُولٰٓئِكَ فِیْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ٢ؕ۠ع﴿35﴾
یہی لوگ ہیں جو جنتوں میں ہوں گے اور وہاں ان کا اعزازو اکرام ہوگا۔فَمَالِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا قِبَلَكَ مُهْطِعِیْنَۙ﴿36﴾
تو (اے نبی ﷺ !) ان کافروں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ آپ کی طرف دوڑے چلے آتے ہیں۔عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ عِزِیْنَ﴿37﴾
دائیں اور بائیں سے غول در غول۔اَیَطْمَعُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّدْخَلَ جَنَّةَ نَعِیْمٍۙ﴿38﴾
کیا ان میں سے ہر ایک واقعتا اس کا خواہش مند ہے کہ وہ نعمت بھری جنت میں داخل کیا جائے گا ؟كَلَّا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّمَّا یَعْلَمُوْنَ﴿39﴾
ہرگز نہیں ! ہم نے ان کو پیدا کیا ہے اس چیز سے جس کو وہ جانتے ہیں۔فَلَاۤ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَ الْمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوْنَۙ﴿40﴾
تو نہیں ! قسم ہے مجھے مشرقوں اور مغربوں کے ربّ کیعَلٰۤى اَنْ نُّبَدِّلَ خَیْرًا مِّنْهُمْ١ۙ وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ﴿41﴾
اس پر کہ ہم ان کو ہٹاکر ان سے بہتر لوگ لے آئیں اور (اس معاملے میں) ہم ہارے ہوئے نہیں ہیں۔فَذَرْهُمْ یَخُوْضُوْا وَ یَلْعَبُوْا حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَۙ﴿42﴾
تو (اے نبی ﷺ !) آپ چھوڑ دیجیے انہیں یہ لگے رہیں بےہودہ باتوں اور کھیل کود میں یہاں تک کہ یہ ملاقات کریں اپنے اس دن سے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔یَوْمَ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا كَاَنَّهُمْ اِلٰى نُصُبٍ یُّوْفِضُوْنَۙ﴿43﴾
جس دن وہ نکلیں گے اپنی قبروں سے دوڑتے ہوئے جیسے کہ وہ مقرر نشانوں کی طرف بھاگے جا رہے ہوں۔خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ ذٰلِكَ الْیَوْمُ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ۠ع﴿44﴾
ان کی نگاہیں زمین میں گڑی ہوئی ہوں گی ذلت ان پر چھائی ہوئی ہوگی۔ یہ ہے وہ دن جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔