Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 7. Al-A'raaf · Ayah 156

  1. وَ اكْتُبْ لَنَا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَاۤ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ عَذَابِیْۤ اُصِیْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُ١ۚ وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَۚ﴿156﴾

    1. وَاكْتُبْاور لکھدے
    2. لَنَاہمارے لیے
    3. فِيْمیں
    4. هٰذِهِاس
    5. الدُّنْيَادنیا
    6. حَسَنَةًبھلائی
    7. وَّاور
    8. فِي الْاٰخِرَةِآخرت میں
    9. اِنَّابیشک ہم
    10. هُدْنَآہم نے رجوع کیا
    11. اِلَيْكَتیری طرف
    12. قَالَاس نے فرمایا
    13. عَذَابِيْٓاپنا عذاب
    14. اُصِيْبُمیں پہنچاتا ہوں (دوں)
    15. بِهٖاس کو
    16. مَنْجس
    17. اَشَآءُمیں چاہوں
    18. وَرَحْمَتِيْاور میری رحمت
    19. وَسِعَتْوسیع ہے
    20. كُلَّ شَيْءٍہر شے
    21. فَسَاَكْتُبُهَاسو میں عنقریب لکھدوں گا
    22. لِلَّذِيْنَان کے لیے جو
    23. يَتَّقُوْنَڈرتے ہیں
    24. وَيُؤْتُوْنَاور دیتے ہیں
    25. الزَّكٰوةَزکوۃ
    26. وَالَّذِيْنَاور وہ جو
    27. هُمْوہ
    28. بِاٰيٰتِنَاہماری آیات پر
    29. يُؤْمِنُوْنَایمان رکھتے ہیں
Translation · Aasan Quran
اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دیجیے اور آخرت میں بھی۔ ہم (اس غرض کے لیے) آپ ہی سے رجوع کرتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا : اپنا عذاب تو میں اسی پر نازل کرتا ہوں جس پر چاہتا ہوں۔ اور جہاں تک میری رحمت کا تعلق ہے وہ ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے۔ (73) چنانچہ میں یہ رحمت (مکمل طور پر) ان لوگوں کے لیے لکھوں گا جو تقوی اختیار کریں، اور زکوٰۃ ادا کریں، اور جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھیں۔ (74)
Tafseer · Aasan Quran
73: مطلب یہ ہے کہ میری رحمت میرے غضب سے بڑھی ہوئی ہے، دنیا کا عذاب میں ہر نافرمان کو نہیں دیتا ؛ بلکہ اپنی حکمت اور علم سے جس کو چاہتا ہوں اسے دیتا ہوں، آخرت میں بھی ہر گناہ پر میرا عذاب دینا ضروری نہیں ؛ بلکہ جو لوگ ایمان لے آتے ہیں ان کے بہت سے گناہ میں معاف کرتا رہتا ہوں ؛ البتہ جن لوگوں کی سرکشی کفر وشرک کی صورت میں حد سے بڑھ جاتی ہے ان کو اپنی مشیت اور حکمت کے تحت عذاب دیتا ہوں، اسکے برخلاف دنیا میں میری رحمت ہر مومن اور کافر، نیک اور بد سب پر چھائی ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں انہیں رزق اور صحت و عافیت کی نعمتیں ملتی رہتی ہیں اور آخرت میں بھی کفر وشرک کے علاوہ دوسرے گناہوں کو اسی رحمت سے معاف کیا جائے گا۔ 74: حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی امت کے لئے جو دعا مانگی تھی کہ دنیا اور آخرت دونوں میں ان کو بھلائی نصیب ہو، یہ اس کا جواب ہے اور مطلب یہ ہے کہ دنیا میں تو میری رحمت سے سب کو رزق وغیرہ مل رہا ہے، لیکن جن لوگوں کو دنیا اور آخرت دونوں میں میری رحمت حاصل ہوگی وہ صرف وہ لوگ ہیں جو ایمان اور تقوی کی صفات کے حامل ہوں اور جنہیں مال کی محبت زکوٰۃ جیسے فریضے کی ادائیگی سے نہ روکے، چنانچہ اے موسیٰ ؑ ! آپ کی امت کے جو لوگ ان صفات کے حامل ہوں گے ان کو ضرور میری یہ رحمت پہنچے گی کہ دنیا اور آخرت دونوں میں انہیں بھلائی نصیب ہوگی۔