Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 8. Al-Anfaal · Ayah 42

  1. اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰى وَ الرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ١ؕ وَ لَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیْعٰدِ١ۙ وَ لٰكِنْ لِّیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ۙ۬ لِّیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَیِّنَةٍ وَّ یَحْیٰى مَنْ حَیَّ عَنْۢ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ﴿42﴾

    1. اِذْجب
    2. اَنْتُمْتم
    3. بِالْعُدْوَةِکنارہ پر
    4. الدُّنْيَاادھر والا
    5. وَهُمْاور وہ
    6. بِالْعُدْوَةِکنارہ پر
    7. الْقُصْوٰيپرلا
    8. وَالرَّكْبُاور قافلہ
    9. اَسْفَلَنیچے
    10. مِنْكُمْتم سے
    11. وَلَوْاور اگر
    12. تَوَاعَدْتُّمْتم باہم وعدہ کرتے
    13. لَاخْتَلَفْتُمْالبتہ تم اختلاف کرتے
    14. فِي الْمِيْعٰدِوعدہ میں
    15. وَلٰكِنْاور لیکن
    16. لِّيَقْضِيَتاکہ پورا کردے
    17. اللّٰهُاللہ
    18. اَمْرًاجو کام
    19. كَانَتھا
    20. مَفْعُوْلًاہو کر رہنے والا
    21. لِّيَهْلِكَتاکہ ہلاک ہو
    22. مَنْجو
    23. هَلَكَہلاک ہو
    24. عَنْسے
    25. بَيِّنَةٍدلیل
    26. وَّيَحْيٰياور زندہ رہے
    27. مَنْجس
    28. حَيَّزندہ رہنا ہے
    29. عَنْسے
    30. بَيِّنَةٍدلیل
    31. وَاِنَّاور بیشک
    32. اللّٰهَاللہ
    33. لَسَمِيْعٌسننے والا
    34. عَلِيْمٌجاننے والا
Translation · Aasan Quran
وہ وقت یاد کرو جب تم لوگ وادی کے قریب والے کنارے پر تھے اور وہ لوگ دور والے کنارے پر، اور قافلہ تم سے نیچے کی طرف۔ (28) اور اگر تم پہلے سے (لڑائی کا) وقت آپس میں طے کرتے تو وقت طے کرنے میں تمہارے درمیان ضرور اختلاف ہوجاتا، لیکن یہ واقعہ (کہ پہلے سے طے کیے بغیر لشکر ٹکرا گئے) اس لیے ہوا کہ جو کام ہو کر رہنا تھا، اللہ اسے پورا کر دکھائے، تاکہ جسے برباد ہونا ہو، وہ واضح دلیل دیکھ کر برباد ہو، اور جسے زندہ رہنا ہو وہ واضح دلیل دیکھ کر زندہ رہے، (29) اور اللہ ہر بات سننے والا، ہر چیز جاننے والا ہے۔
Tafseer · Aasan Quran
28: یہ میدان جنگ کا نقشہ بتایا جارہا ہے بدر ایک ودای کا نام ہے اس کا کنارہ جو مدینہ منورہ سے قریب تر ہے اس پر مسلمانوں کا لشکر فروکش تھا، جو کنارہ مدینہ منورہ سے نسبۃ دور ہے اس پر کفار کا لشکر تھا اور قافلے سے مراد ابوسفیان کا قافلہ ہے جو اس وادی کے نیچے کی جانب ساحل سمندر کی طرف بچ کر نکل گیا تھا، تفصیل اس سورت کے شروع میں بیان ہوچکی ہے۔ 29: مَفْعُوْلًا : مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسباب ایسے پیدا فرمادیئے کہ کفار مکہ سے باقاعدہ جنگ ٹھن گئی، ورنہ اگر دونوں فریق پہلے سے جنگ کے لئے کوئی وقت طے کرنا چاہتے تو اختلاف ہوجاتا، مسلمان چونکہ بےسروسامان تھے اس لئے باقاعدہ جنگ سے کتراتے اور مشرکین کے دلوں پر بھی آنحضرت ﷺ کی ہیبت تھی اس لئے وہ بھی خواہش کے باوجود جنگ کو ٹلانا چاہتے ؛ لیکن جب انہیں اپنا تجارتی قافلہ خطرے میں نظر آیا تو ان کے پاس جنگ کے سوا کوئی چارہ نہ رہا اور مسلمانوں کے سامنے جب لشکر آہی گیا تو وہ بھی لڑنے پر مجبور ہوگئے، اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ اسباب ہم نے اس لئے پیدا کئے کہ ایک مرتبہ فیصلہ کن معرکہ ہوجائے اور اللہ تعالیٰ کی عطا فرمائی ہوئی فتح ونصرت سے آنحضرت ﷺ کی حقانیت کھل کر سامنے آجائے، اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص کفر کرکے بربادی کا راستہ اختیار کرے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دلیل کے واضح ہونے کے بعد اختیار کرے، اور جو شخص اسلام لاکر باعزت زندگی اختیار کرے وہ بھی اس واضح دلیل کی روشنی میں کرے۔