Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 8. Al-Anfaal · Ayah 70

  1. یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْۤ اَیْدِیْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰۤى١ۙ اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰهُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ خَیْرًا یُّؤْتِكُمْ خَیْرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنْكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿70﴾

    1. يٰٓاَيُّھَااے
    2. النَّبِيُّنبی
    3. قُلْکہ دیں
    4. لِّمَنْان سے جو
    5. فِيْٓمیں
    6. اَيْدِيْكُمْتمہارے ہاتھ
    7. مِّنَسے
    8. الْاَسْرٰٓيقیدی
    9. اِنْاگر
    10. يَّعْلَمِمعلوم کرلے گا
    11. اللّٰهُاللہ
    12. فِيْمیں
    13. قُلُوْبِكُمْتمہارے دل
    14. خَيْرًاکوئی بھلائی
    15. يُّؤْتِكُمْتمہیں دے گا
    16. خَيْرًابہتر
    17. مِّمَّآاس سے جو
    18. اُخِذَلیا گیا
    19. مِنْكُمْتم سے
    20. وَيَغْفِرْاور بخشدے گا
    21. لَكُمْتمہیں
    22. وَاللّٰهُاور اللہ
    23. غَفُوْرٌبخشنے والا
    24. رَّحِيْمٌنہایت مہربان
Translation · Aasan Quran
اے نبی ! تم لوگوں کے ہاتھوں میں جو قیدی ہیں (اور جنہوں نے مسلمان ہونے کا ارادہ ظاہر کیا ہے) ان سے کہہ دو کہ : اگر اللہ تمہارے دلوں میں بھلائی دیکھے گا جو مال تم سے (فدیہ میں) لیا گیا ہے اس سے بہتر تمہیں دیدے گا (50) اور تمہاری بخشش کردے گا، اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
Tafseer · Aasan Quran
50: بھلائی دیکھنے سے مراد یہ ہے کہ جن لوگوں نے مسلمان ہونے کا اعلان کیا ہے وہ خلوص دل کے ساتھ ہو، کوئی شرارت نہ ہو، اس صورت میں ان سے وعدہ کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی آزادی کے لئے فدیہ میں جو کچھ خرچ کیا ہے اس سے بہتر بدلہ انہیں دنیا یا آخرت میں دے دیا جائے گا، چنانچہ آنحضرت ﷺ کے چچا حضرت عباس ؓ جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اور بدر کی جنگ میں قید ہوگئے تھے، انہوں نے آپ سے عرض کیا تھا کہ میں مسلمان ہونا چاہتا تھا مگر میرے قبیلے کے لوگوں نے مجھے جنگ میں آنے پر مجبور کردیا، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بہر حال ! جو فدیہ دینا طے ہوا ہے وہ تو تمہیں دینا ہوگا اور اپنے بھتیجوں عقیل اور نوفل کا فدیہ بھی تم دو ، انہوں نے کہا کہ اتنی رقم میں کہاں سے لاؤں، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ وہ رقم کہاں ہے جو تم اپنی اہلیہ ام الفضل کے پاس خفیہ طور پر چھوڑ کر آئے ہو ؟ حضرت عباس نے یہ سنا توہکا بکا رہ گئے کیونکہ اس بات کا علم ان کے اور ان کی اہلیہ کے سوا کسی کو نہیں تھا، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں، بعد میں حضرت عباس ؓ فرمایا کرتے تھے کہ جتنا کچھ میں نے فدیہ میں دیا تھا واقعی اس سے کہیں زیادہ اللہ تعالیٰ نے مجھے دیا ہے۔