Al-Quran-al-Kareem - Ash-Shura : 33
اِنْ یَّشَاْ یُسْكِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلٰى ظَهْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍۙ
اِنْ يَّشَاْ : اگر وہ چاہے يُسْكِنِ الرِّيْحَ : تھما دے ہوا کو فَيَظْلَلْنَ : تو وہ ہوجائیں۔ رہ جائیں رَوَاكِدَ : تھمی ہوئی عَلٰي ظَهْرِهٖ : اس کی پشت پر اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ : یقینا اس میں لَاٰيٰتٍ : البتہ نشانیاں ہیں لِّكُلِّ : واسطے ہر صَبَّارٍ : بہت صبر کرنے والے شَكُوْرٍ : بہت شکرگزار کے لیے
اگر وہ چاہے ہوا کو ٹھہرا دے تو وہ اس کی سطح پر کھڑے رہ جائیں۔ بیشک اس میں ہر ایسے شخص کے لیے یقینا کئی نشانیاں ہیں جو بہت صبر کرنے والا، بہت شکر کرنے والا ہے۔
(1) ان یشا یسکن الریح …:”رواکد“”رکد یرکد رکوداً“ (ن) سے اسم فاعل ”راکدۃ“ کی جمع ہے۔ نزول قرآن کے وقت سمندر میں بادبانی کشتیاں اور جہاز چلتے تھے ، جن کے چلنے نہ چلنے کا اور سست یا تیز رفتار سے چلنے کا دار و مدار ہوا پر ہوتا تھا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے سمندروں میں جہازوں کو چلانے والی ہواؤں کی تین حالتیں بیان فرمائی ہیں، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ ہوا کو ساکن کر دے اور جہاز جہاں کھڑے ہیں وہیں کھڑے رہ جائیں، پھر اللہ تعالیٰ کے سوا کون ہے جو اس ہوا کو چلا دے ؟ (2) او یو بفھن بما کسبوا : اس کا عطف ”یسکن الریح“ پر ہے، گویا عبارت اس طرح ہے :”ان یشا یکسن الریح او ان یشاء یوبقھن بما کسبوا“ یعنی ”اگر وہ چاہے تو ہوا کو ساکن کر دے یا اگر وہ چاہے تو ان کے اعمال بد کی وجہ سے تند و تیز طوفانی ہوا کے ساتھ انہیں ہلاک کر دے۔“ یہ ہوا کی دوسری حالت ہے، تفصیل کے ساتھ اس کا ذکر ایک اور آیت میں ہے، فرمایا :(حتی اذا کنتم فی الفلک وجرین بھم بریح طیبۃ و فرحوا بھا جآء تھا ریح عاصف) (یونس : 122)”یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور وہ انہیں لے کر عمدہ ہوا کے ساتھ چل پڑتی ہیں اور وہ اس پر خوش ہوتے ہیں تو ان (کشتیوں) پر سخت تیز ہوا آجاتی ہے۔“ (3) ویعف عن کثیر : اس کا عطف بھی ”یکسن الریح“ پر ہے : ”ای وان یشاء یغف عن کثیر فلا یعاقبھم باسکان الریح او بار سلھا عاصفۃ“ یہ تیسری حالت ہے، یعنی اگر وہ چاہے تو بہت سے لوگوں سے درگزر کر دے، پھر نہ ہوا روک کر انھیں سزا دے اور نہ ہی تند و تیز طوفان کے ساتھ انھیں ہلاک کرے، بلکہ انھیں سلامتی کے ساتھ منزل مقصود پر پہنچا دے۔ ”یکسن“ ، ”یوبقھن“ اور ”یعف“ تینوں ”ان یشآئ“ شرط کی جزا ہونے کی وجہ سے مجزوم ہیں۔ (4) ان آیات میں جہاں مشرکین کے لئے اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل بیان ہوئے ہیں وہیں مادہ پرست کمیونسٹوں اور دہریوں کا رد بھی ہے، کیونکہ ان آیات سے معلوم ہوا کہ ہوا نہ اپنی مرضی سے چلتی ہے اور نہ ٹھہرتی ہے ، نہ اپنی مرضی سے باد موافق ہو کر چلتی ہے اور نہ ہی تند و تیز آندھی کی شکل اختیار کرتی ہے، بلکہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے۔ اگر ہوا کا چلنا اس کا طبعی فعل ہوتا تو جس طرح آگ جلاتی ہے اور برف ٹھنڈی ہوتی ہے ہوا بھی یا ساکن رہتی اور کبھی نہ چلتی یا چلتی رہتی اور ہمیشہ تند و تیز آندھی کی صورت اختیار کئے رکھتی۔ معلوم ہوا کہ ہوا کا چلنا خود اس کا فعل نہیں بلکہ یہ اس مالک و مختار کے ہاتھ میں ہے جس نے اسے پیدا فرمایا۔ (5) ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور : یہ اس سوال کا جواب ہے کہ اتنی واضح اور عظیم نشانیوں کے باوجود مشرک اور دہریے ان سے فائدہ کیوں نہیں اٹھاتے ؟ جواب کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة لقمان کی آیت (31) کی تفسیر۔ (6) یہاں یہ سوال پیدا ہوگا کہ آج کل جہاز ہوا سے نہیں چلتے بلکہ انجنوں کی طاقت سے چلتے ہیں، پھر ہوا کے رکنے سے ان پر کیا اثر ہوا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انجن بھی عقب میں ہوا کے ساتھ پانی کو پیچھے دھکیلتے ہوئے جہازوں کو آگے بڑھاتے ہیں۔ ”الریح“ کا لفظ اس ریح کو بھی شامل ہے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان انجنوں میں ایسی خرابی پیدا کر دے کہ وہ ایک ہی جگہ کھڑے رہ جائیں۔ (تفسیر ثنائی، بتصرف)
Top