Madarik-ut-Tanzil - Ash-Shura : 33
اِنْ یَّشَاْ یُسْكِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلٰى ظَهْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍۙ
اِنْ يَّشَاْ : اگر وہ چاہے يُسْكِنِ الرِّيْحَ : تھما دے ہوا کو فَيَظْلَلْنَ : تو وہ ہوجائیں۔ رہ جائیں رَوَاكِدَ : تھمی ہوئی عَلٰي ظَهْرِهٖ : اس کی پشت پر اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ : یقینا اس میں لَاٰيٰتٍ : البتہ نشانیاں ہیں لِّكُلِّ : واسطے ہر صَبَّارٍ : بہت صبر کرنے والے شَكُوْرٍ : بہت شکرگزار کے لیے
اگر (خدا) چاہے تو ہوا کو ٹھہرا دے اور جہاز اس کی سطح پر کھڑے رہ جائیں تمام صبر اور شکر کرنے والوں کے لئے ان (باتوں) میں قدرت خدا کے نمونے ہیں
صابر و شاکر : 33: اِنْ یَّشَاْ یُسْکِنِ الرِّیْحَ (اگر وہ چاہے تو ہوا کو ٹھہرا دے) قراءت : مدنی نے الریاح پڑھا ہے۔ فَیَظْلَلْنَ رَوَاکِدَ (وہ کھڑے کے کھڑے رہ جائیں) کھڑے رہیں نہ چل سکیں۔ عَلٰی ظَھْرِہٖ (اس کی سطح پر) سمندر کی سطح پر اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ (بیشک اس میں نشانات ہیں ہر صابر) جو مصائب پر صبر کرتا ہے۔ شَکُوْرٍ (شاکر کیلئے) نعمتوں کا قدردان ہے یعنی ہر مخلص ایمان والے کیلئے۔ ایمان کے دو حصے ہیں نمبر 1۔ آدھا صبر 2۔ آدھا شکر یا اطاعتوں پر جم جانے والا اور نعمتوں کی قدردانی کرنے والا۔
Top