Anwar-ul-Bayan - Ash-Shura : 33
اِنْ یَّشَاْ یُسْكِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلٰى ظَهْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍۙ
اِنْ يَّشَاْ : اگر وہ چاہے يُسْكِنِ الرِّيْحَ : تھما دے ہوا کو فَيَظْلَلْنَ : تو وہ ہوجائیں۔ رہ جائیں رَوَاكِدَ : تھمی ہوئی عَلٰي ظَهْرِهٖ : اس کی پشت پر اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ : یقینا اس میں لَاٰيٰتٍ : البتہ نشانیاں ہیں لِّكُلِّ : واسطے ہر صَبَّارٍ : بہت صبر کرنے والے شَكُوْرٍ : بہت شکرگزار کے لیے
اگر (خدا) چاہے تو ہوا کو ٹھہرا دے اور جہاز اس کی سطح پر کھڑے رہ جائیں تمام صبر اور شکر کرنے والوں کے لئے ان (باتوں) میں قدرت خدا کے نمونے ہیں
(42:33) ان یشاء ان شرطیہ۔ یشأ مضارع مجزوم (بوجہ عمل ان) واحد مذکر غائب مشیۃ (باب فتح) مصدر۔ اگر وہ چاہے۔ یسکن مضارع مجزوم بوجہ شرط : واحد مذکر غائب کا صیغہ ن مکسور بالوصل اسکان (افعال) مصدر وہ روک دے۔ الریح ہوا۔ اسم مفعول ۔ ریح کی جمع ریاح ہے قرآن مجید میں جہاں ارسال کی ہوائیں مراد ہیں اور اگر واحد کا لفظ ریح استعمال ہوا ہے تو وہاں عذاب کے معنی مراد ہیں۔ ان یشا یسکن الریح جملہ شرطیہ ہے۔ فیظللنجواب شرط کے لئے ہے یظللن مضارع فعل ناقص جمع مؤنث غائب ظل (باب سمع) مصدر وہ ہوجائیں۔ وہ ہوجائیں گی۔ ضمیر جمع مؤنث کا مرجع الجوار ہے۔ رواکد : ایستادہ : ٹھہری ہوئیں۔ تھمی ہوئیں۔ راکد کی جمع ہے رکود (باب نصر) مصدر بمعنی (ہوا، پانی۔ یا جہاز کا) رک جانا۔ اپنے مقام پر ٹھہر جانا۔ اپنی جگہ پر برقرار رہنا۔ علی ظھرہ میں ہ ضمیر کا مرجع البحر ہے۔ پس کشتیاں یا جہاز اس کی سطح پر کھڑے رہ جائیں۔ فی ذلک : ذلک کا اشارہ کشتیوں یا جہازوں کا پانی کی سطح پر ہواؤں کے چلنے سے رواں دواں رہنا۔ اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہواؤں کو روک کر کشتیوں کو پانی پر ساقط کردینا کی طرف ہے۔ صبار صبر سے بروزن فعال مبالغہ کا صیغہ ہے بہت صبر کرنے والا بڑا تحمل کرنے والا۔ شکور شکر سے فعول کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے مبالغہ کے اوزان میں سے ہے۔ بڑا شکر گزار، بڑا احسان ماننے والا۔ یہاں صبار شکور ، مؤمن مخلص کی تعریف میں آئے ہیں۔
Top