Al-Qurtubi - Ash-Shura : 43
اِنْ یَّشَاْ یُسْكِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلٰى ظَهْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍۙ
اِنْ يَّشَاْ : اگر وہ چاہے يُسْكِنِ الرِّيْحَ : تھما دے ہوا کو فَيَظْلَلْنَ : تو وہ ہوجائیں۔ رہ جائیں رَوَاكِدَ : تھمی ہوئی عَلٰي ظَهْرِهٖ : اس کی پشت پر اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ : یقینا اس میں لَاٰيٰتٍ : البتہ نشانیاں ہیں لِّكُلِّ : واسطے ہر صَبَّارٍ : بہت صبر کرنے والے شَكُوْرٍ : بہت شکرگزار کے لیے
اگر (خدا) چاہے تو ہوا کو ٹھہرا دے اور جہاز اس کی سطح پر کھڑے رہ جائیں تمام صبر اور شکر کرنے والوں کے لئے ان (باتوں) میں قدرت خدا کے نمونے ہیں
ان یشا یسکن الریح اہل مدینہ نے اسی طرح جمع کا صیغہ پڑھا ہے فیظللن رواکد علی ظھرہ کشتیاں سطح سمندر پر ساکن رہتی ہیں وہ چلتی نہیں ہیں رکدالساء رکودا یعنی پانی ٹھہر گیا ‘ اسی طرح ہوا اور کشتی ہے۔ سورج جب دوپہر کو ٹھہر جائے تو اس کے لیے بھی راکد کا لفظ استعمال ہوتا ہے ‘ ہر وہ چیز جو کسی جگہ ثابت ہوا ہے راکد کہتے ہیں راکد المیزان جب وہ جھکنے سے رک جائے ‘ مراکد ان مقامات کو کہتے ہیں جہاں انسان اور دوسری چیزیں ٹھہرتی ہیں۔ قتادہ نے اسے فیظللتن پہلے لام کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے یہ بھی ایک لغت ہے جس طرح ضللت ‘ اضل ہے اور لام کے فتحہ کے ساتھ بھی ہے ؛ یہ قرأت مشہور ہے۔ ان فی ذلک لایت لکل صبارشکور۔ آیات سے مراد دلالات اور علامات ہیں یعنی جو آزمائش پر صبر کرتا ہے اور نعمتوں پر شکر بجالاتا ہے۔ قطرب نے کہا : صابر و شاکر بندہ کتنا اچھا ہے جب اسے عطا کیا جائے تو شکر کرتا ہے اور جب اسے آزمائش میں ڈالا جائے تو صبر کرتا ہے (4) عون بن عبداللہ نے کہا : کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن پر انعام کیا جاتا ہے تو شکر نہیں کرتے اور کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کو امتحان میں ڈالا جاتا تو صبر نہیں کرتے۔ (آیت نمبر 3435) اویوبقھن بما کسبوا اگر چاہے تو ہوائوں کو آندھیاں بنادے اور کشتیوں کو تباہ کردے یعنی ان لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے انہیں ہلاک کردے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ کشتیوں والے افراد کو ہلاک کردے۔ ویعف عن کثیر۔ ان کشتیوں والے بہت سے افراد کو معاف فرما دیتا ہے اور ان کشتیوں کے ساتھ انہیں غرق نہیں کرتا ؛ یہ ماوردی نے حکایت بیان کی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے وہ بہت سے گناہوں کو معاف کردیتا ہے اور انہیں ہلاکت سے اللہ تعالیٰ نجات عطا فرماتا ہے۔ قشیری نے کہا : عام قراءت ویعف ہے اس میں اشکال ہے کیونکہ معنی ہے اگر چاہے تو ہوا کو ساکن کردے اور وہ کشتیاں ایک ہی جگہ پھہری رہیں اور ان کے سواروں کے گناہوں کے سب انہیں تباہ کردے اس صور تمہیں عطف کرنا اچھا نہیں کیونکہ اس صورت میں معنی بن جاتا ہے اگر چاہے تو معاف کردے معنی یہ نہیں بلکہ معنی ہے بغیر مشیئت کی شرط کے انہیں معاف کرنے کی خبر دینا ہے اس صورت میں مجزوم پر عطف لفظ کے اعتبار سے ہوگا معنی کے اعتبار سے نہیں ہوگا۔ ویعلم الذین یجادلون فی ایتنا مالھم من محیص۔ اس کا مصداق کفار ہیں یعنی جب وہ سمندر کے بیچ میں ہوتے ہیں اور ہوائیں ہر طرف سے گھیر لیتی ہیں یا کشتیاں کھڑی رہتی ہیں تو انہیں علم ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی پناہ گاہ نہیں اور نہ ہی انہیں بچا نے والا ہے ‘ اگر اللہ تعالیٰ انہیں ہلاک کرنے کا ارادہ کرے پس وہ اللہ تعالیٰ کی اخلاص سے عبادت کریں۔ یہ بحث بھی کئی مقامات پر گذر چکی ہے۔ سمندر میں سفر کرنے کے بارے میں بحث سورة بقرہ اور دوسرے مقامات پر گذر چکی ہے اس لیے اعادہ کا کوئی فائدہ نہیں۔ نافع اور ابن عامر نے ویعلم رفع کے ساتھ پڑھا ہے جبکہ باقیوں نے نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ شرط وجزا کے بعد رفع استناف کے طریقہ پر ہوگا جس طرح سورة توبہ میں ہے ویخزھم وینصر کم علیھم (14) پھر فرمایا : ویتوب اللہ علی من یسآء (التوبہ : 15) رفع کے طور پر فرمایا ‘ اس کی مثل کلام عربی میں ہے ان تأتنی اتک وینطلق عبداللہ یا یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے اور نصب محض کلام پھیرنے کے اعتبار سے ہوگی جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ولما یعلم اللہ الذین جھدوا منکم ویعلم الصبرین۔ (آل عمران) جزم کی حالت سے نصب کی حالت کی طرف اسے پھیرا ہے مقصد تخفیف پیدا کرنا ہے کیونکہ پے درپے جزم ناپسندیدہ ہے جس طرح نابغہ کا قول ہے : فان یھلک ابو قابوس یھلک ربیع الناس والشھر الحرام ویمسک بعدہ بذناب عیش اجب الظھر لیس لہ سنام اگر ابو قابوس ہلاک ہوگیا ہے تو لوگوں کا موسم بہار اور شہر حرام فوت ہوگیا ہے اس کے فوت ہونے کے بعد وہ زندگی کی دنب کو ہی پکڑے گا جس کی کہاں کٹی ہوئی ہے۔ یہ فراء کے قول کا معنی ہے۔ اگر یعلم کو جزم دی جائے تو یہ بھی جائز ہے۔ رجاج نے کہا : ان کے مضمر ہونے کی بنا پر اسے نصب دی جائے گی (1) کیونکہ اسے سے قبل جزم ہے تو کہتا ہے : تصنع اصنع مثلہ وأکرمک۔ اگر تو چاہے تو تو کہہ سکتا ہے واکرمک بعض مصاحف میں ولیعلم ہے یہ اس امر پر دال ہے کہ نصب معنی کی وجہ سے ہے کہ پہلا مصدر کے حکم میں ہے ویکون منہ عفو و أن لیعلم۔ جب اسے اسم پر محمول کیا تو ان کو مضمر کیا جس طرح تو کہتا ہے : ان تاتنی وتعطینی اکرمک اور تو تو تعطینیو نصب دیتا ہے تقدیر کلام یہ بنے گی ان یکن منکم اتیان وأن تعطینی۔ من محیص۔ کا معنی فرار اور بھاگنے کی جگہ ہے (1) ؛ یہ قطرب نے کہا : سدی نے کہ : معنی ہے پناہ گاہ۔ یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے (2) ؛ حاص بہ البعیر حیصۃ جب اونٹ نے اسے پھینک دیا اسی معنی میں ان کا قول ہے : فلان یحیص عن الحق فلاں حق سے مائل ہوتا ہے۔
Top