Anwar-ul-Bayan - An-Nisaa : 177
وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا١ؕ مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا١ؕ وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ
وَكَذٰلِكَ : اور اسی طرح اَوْحَيْنَآ : وحی کی ہم نے اِلَيْكَ رُوْحًا : آپ کی طرف ایک وحی کو مِّنْ اَمْرِنَا : اپنے حکم سے مَا كُنْتَ تَدْرِيْ : نہ تھا تو جانتا مَا الْكِتٰبُ : کتاب کیا ہے وَلَا الْاِيْمَانُ : اور نہ ایمان وَلٰكِنْ : لیکن جَعَلْنٰهُ : بنایا ہم نے اس کو نُوْرًا : نور نَّهْدِيْ بِهٖ : راہ دکھاتے ہیں ہم ساتھ اس کے مَنْ : جس کو نَّشَآءُ : ہم چاہتے ہیں مِنْ عِبَادِنَا : اپنے بندوں میں سے وَاِنَّكَ لَتَهْدِيْٓ : اور بیشک آپ رہنمائی کرتے ہیں ۔ البتہ آپ ہدایت ہیں اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ : صراط مستقیم کی طرف
اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے قرآن کی وحی کی، آپ نہیں جانتے تھے کہ کیا ہے کتاب اور کیا ہے ایمان ؟ اور لیکن ہم نے اسے نور بنا دیا ہے اس کے ذریعہ ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں اور بلاشبہ آپ صراط مستقیم کی طرف ہدایت دیتے ہیں
اس کے بعد فرمایا ﴿ وَ كَذٰلِكَ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا﴾ اور جس طرح ہم نے آپ سے پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی اسی طرح آپ کی طرف بھی روح یعنی نبوت کی وحی بھیجی۔ بعض مفسرین نے روح سے نبوت اور بعض حضرات نے روح سے قرآن مراد لیا ہے ﴿ مَا كُنْتَ تَدْرِيْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِيْمَانُ ﴾ (آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے) یعنی نبوت ملنے سے پہلے آپ کو یہ پتہ نہ تھا کہ اللہ کی کتاب کیا ہے اور نہ آپ کو ایمانیات کا تفصیلی علم دیا گیا تھا جب آپ کو نبوت عطا کی گئی اللہ کی کتاب نازل ہوئی اور ایمان کی تفصیلات بتادی گئیں اس وقت آپ کو اللہ کی کتاب کا اور ایمانیات کا علم ہوا گو اجمالی ایمان پہلے سے حاصل تھا۔ قال القرطبی والصواب انھم معصومون قبل النبوة من الجھل باللّٰہ وصفاتہ والتشکک فی شیٔ من ذلک وقد تعاضدت الاخبار والاثار علی الانبیاء بتنزیھھم عن ھذہ النقیصة منذولدوا، نشاتھم علی التوحید والایمان بل علی اشراق انوار المعارف ونفحات الطاف السعادة ومن طالع سیرھم منذصباھم الی مبعثھم حقق ذلک (علامہ قرطبی ؓ فرماتے ہیں اور صحیح بات یہ ہے کہ انبیاء ( علیہ السلام) نبوت ملنے سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے بارے میں جہالت اور کسی قسم کے شک و شبہ سے پاک ہوتے ہیں۔ ولادت سے ہی اس قسم کی نقائص سے پاک ہونے کے بارے میں خود انبیائے کرام سے احادیث و آثار کثرت سے مروی ہیں۔ ان کی نشوونما توحید و ایمان ہی پر ہوتی ہے بلکہ انوارات و معارف اور سعادت کے الطاف کے ساتھ ہوتی ہے جس نے ولادت سے نبوت تک ان کی سیرتوں کا مطالعہ کیا ہے اس پر یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے۔ ) ﴿وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِيْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا 1ؕ﴾ (اور لیکن ہم نے آپ کو قرآن دیا اور اس قرآن کو ایک نور بنا دیا جس کے ذریعہ ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہیں ہدایت دیں) ﴿وَ اِنَّكَ لَتَهْدِيْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍۙ0052﴾ (اور بلاشبہ آپ سیدھے راستہ کی ہدایت بتاتے ہیں جس میں کوئی كجی نہیں ہے۔ )
Top