Dure-Mansoor - Ash-Shura : 52
وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا١ؕ مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا١ؕ وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ
وَكَذٰلِكَ : اور اسی طرح اَوْحَيْنَآ : وحی کی ہم نے اِلَيْكَ رُوْحًا : آپ کی طرف ایک وحی کو مِّنْ اَمْرِنَا : اپنے حکم سے مَا كُنْتَ تَدْرِيْ : نہ تھا تو جانتا مَا الْكِتٰبُ : کتاب کیا ہے وَلَا الْاِيْمَانُ : اور نہ ایمان وَلٰكِنْ : لیکن جَعَلْنٰهُ : بنایا ہم نے اس کو نُوْرًا : نور نَّهْدِيْ بِهٖ : راہ دکھاتے ہیں ہم ساتھ اس کے مَنْ : جس کو نَّشَآءُ : ہم چاہتے ہیں مِنْ عِبَادِنَا : اپنے بندوں میں سے وَاِنَّكَ لَتَهْدِيْٓ : اور بیشک آپ رہنمائی کرتے ہیں ۔ البتہ آپ ہدایت ہیں اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ : صراط مستقیم کی طرف
اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے قرآن کی وحی کی، آپ نہیں جانتے تھے کہ کیا ہے کتاب اور کیا ہے ایمان ؟ اور لیکن ہم نے اسے نور بنادیا ہے اس کے ذریعہ ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں اور بلاشبہ آپ صراط مستقیم کی طرف ہدایت دیتے ہیں
1:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وکذلک اوحینا الیک روحا من امرنا “ (اور اسی طرح ہم نے آپ کے پاس وحی بھیجی یعنی اپنے حکم میں سے) میں روحا سے مراد ہے قرآن مجید۔ 2:۔ ابونعیم (رح) (نے دلائل میں) وابن عساکر (رح) نے علی ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کی آپ نے کبھی بتوں کی عبادت کی ؟ فرمایا نہیں پھر انہوں نے پوچھا کیا آپ نے کبھی شراب پی ؟ فرمایا نہیں میں لگاتار ان چیزوں کے بارے میں پوچھتا رہا جن پر کافر پابند تھے (آیت ) ” ماکنت تدری ما الکتب ولا الایمان “ (یعنی میں نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا چیز ہے اور ایمان کیا ہے) اور اسی بارے میں قرآن نازل ہوا (کہ آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا چیز ہے اور ایمان کیسا ہے) ۔ 3:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانک لتھدی “ (اور اس میں شک نہیں کہ آپ ہدایت کررہے ہیں یعنی آپ دعوت دیتے ہیں (ہدایت کی طرف) 4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وانک لتھدی الی صراط مستقیم “ (اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ ہدایت کررہے ہیں راستے کی طرف) اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” وبکل قوم ھاد “ (الرعد آیت 7) (اور ہر قوم کے لئے ہدایت کرنے والا ہوتا ہے) یعنی ایسا دعوت دینے والا ہو جو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دے۔ 5:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وانک لتھدی الی صراط مستقیم “ سے مراد ہے کہ آپ بلاتے ہیں لوگوں کو سیدھے راستے کی طرف۔ الحمد للہ سورة شوری مکمل ہوئی :
Top