Madarik-ut-Tanzil - Ash-Shura : 52
وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا١ؕ مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا١ؕ وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ
وَكَذٰلِكَ : اور اسی طرح اَوْحَيْنَآ : وحی کی ہم نے اِلَيْكَ رُوْحًا : آپ کی طرف ایک وحی کو مِّنْ اَمْرِنَا : اپنے حکم سے مَا كُنْتَ تَدْرِيْ : نہ تھا تو جانتا مَا الْكِتٰبُ : کتاب کیا ہے وَلَا الْاِيْمَانُ : اور نہ ایمان وَلٰكِنْ : لیکن جَعَلْنٰهُ : بنایا ہم نے اس کو نُوْرًا : نور نَّهْدِيْ بِهٖ : راہ دکھاتے ہیں ہم ساتھ اس کے مَنْ : جس کو نَّشَآءُ : ہم چاہتے ہیں مِنْ عِبَادِنَا : اپنے بندوں میں سے وَاِنَّكَ لَتَهْدِيْٓ : اور بیشک آپ رہنمائی کرتے ہیں ۔ البتہ آپ ہدایت ہیں اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ : صراط مستقیم کی طرف
اور اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے تمہاری طرف روح القدس کے ذریعے (سے قرآن) بھیجا ہے تم نہ تو کتاب کو جانتے تھے اور نہ ایمان کو لیکن ہم نے اس کو نور بنایا ہے کہ اس سے ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں ہدایت کرتے ہیں اور بیشک (اے محمد ﷺ تم سیدھا راستہ دکھاتے ہو
52: وَکَذٰلِکَ (اور اسی طرح) یعنی جیسا ہم نے آپ سے پہلے رسولوں کی طرف وحی بھیجی یا جیسا کہ ہم نے آپ کو بیان کردیا۔ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ (ہم نے آپ کی طرف وحی کی) وحی کرنا اسی طرح ہوتا ہے۔ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا (یعنی اپنا حکم بھیجا) مراد یہ ہے کہ جو آپ کی طرف بھیجی گئی کیونکہ لوگ اس کی وجہ سے اپنے دین میں زندہ ہوجاتے ہیں جیسا کہ جسم روح سے زندہ ہوجاتا ہے۔ مَا کُنْتَ تَدْرِیْ (آپ کو نہ یہ خبر تھی) : الیک کے کاف سے یہ حال ہے۔ مَا الْکِتٰبُ (کتاب کیا چیز ہے) وَلَا الْاِیْمَانُ (اور نہ ایمان کیا چیز ہے) یعنی اس کے احکامات، اور نہ ایمان بالکتاب کیونکہ جب وہ یہ نہیں جانتے کہ کتاب نازل ہوگی تو وہ اس کتاب کے جاننے والے نہ بنے۔ ایک قول یہ ہے : کہ ایمان کئی چیزوں کو شامل ہے۔ بعض کی طرف راہ تو عقل ہے اور بعض کی طرف راہ کان ہیں۔ پس یہاں وہ مراد ہیں جن کا تعلق سمع سے ہے نہ کہ عقل سے اور وہ آپ کو علم نہ تھا یہاں تک کہ وحی سے اس کو حاصل کرلیا۔ وَلٰکِنْ جَعَلْنٰـہُ ( لیکن ہم نے اس کو بنادیا) یعنی کتاب کو نُوْرًا نَّھْدِیْ بِہٖ مَنْ نَّشَآئُ مِنْ عِبَادِنَا وَاِنَّکَ لَتَھْدِیْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ( ایک نور جس کے ذریعے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں ہدایت کرتے ہیں اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ ایک سیدھے راستہ کی طرف ہدایت کر رہے ہیں) تھدیؔ دعوت دینے کے معنی میں ہے اور۔ قراءت : ایک قراءت میں تھدی بہٖ بھی پڑھا گیا ہے۔ صراط مستقیم سے اسلام مراد ہے۔
Top