Tafseer-e-Baghwi - Ash-Shura : 52
وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا١ؕ مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا١ؕ وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ
وَكَذٰلِكَ : اور اسی طرح اَوْحَيْنَآ : وحی کی ہم نے اِلَيْكَ رُوْحًا : آپ کی طرف ایک وحی کو مِّنْ اَمْرِنَا : اپنے حکم سے مَا كُنْتَ تَدْرِيْ : نہ تھا تو جانتا مَا الْكِتٰبُ : کتاب کیا ہے وَلَا الْاِيْمَانُ : اور نہ ایمان وَلٰكِنْ : لیکن جَعَلْنٰهُ : بنایا ہم نے اس کو نُوْرًا : نور نَّهْدِيْ بِهٖ : راہ دکھاتے ہیں ہم ساتھ اس کے مَنْ : جس کو نَّشَآءُ : ہم چاہتے ہیں مِنْ عِبَادِنَا : اپنے بندوں میں سے وَاِنَّكَ لَتَهْدِيْٓ : اور بیشک آپ رہنمائی کرتے ہیں ۔ البتہ آپ ہدایت ہیں اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ : صراط مستقیم کی طرف
اور کسی آدمی کے لئے ممکن نہیں کہ خدا اس سے بات کرے مگر الہام (کے ذریعے) سے یا پردے کے پیچھے سے یا کوئی فرشتہ بھیج دے تو وہ خدا کے حکم سے جو خدا چاہے القا کرے بیشک وہ عالی رتبہ (اور) حکمت والا ہے
51، وماکان لبشران یکلمہ اللہ الاوحیا، اور یہ اس وجہ سے کہ یہودنے نبی کریم ﷺ کو کہا اگر آپ (علیہ السلام) نبی ہیں تو اللہ تعالیٰ سے کلام اور زیارت کیوں نہیں کی جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے کلام اور ان کی زیارت کی ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ، وماکان لبشر ان یکلمہ اللہ الا وحیا، اس کی طرف وحی کرے نیند میں یا الہام کے ذریعے۔ ، او من وراء حجاب ، کہ اس کو اپنی کلام سنائے اور اس کونہ دیکھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ سے موسیٰ (علیہ السلام) نے کلام کی۔ ، اویرسل رسولا، جبرئیل (علیہ السلام) یا ان کے علاوہ فرشتوں سے۔ ، فیوحی باذنہ مایشائ، یعنی وہ رسول مرسل الیہ کی طرف وحی کرے گا اللہ کی اجازت کے ساتھ جو چاہے ۔ نافع (رح) نے ، اویرسل، لام کی پیش کے ساتھ ابتداء کی بناء پر پڑھا ہے۔ ، فیوحی، یاء ساکن کے ساتھ اور دیگر حضرات نے لام اور یاء کے نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ وحی کے محل پر عطف کرتے ہوئے اس لیے کہ اس کا معنی کسی بندہ کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ کلام کریں مگر یہ کہ اس کی طرف وحی کریں یارسول بھیجیں ۔ ، انہ علی حکیم،
Top