Al-Qurtubi - Ash-Shura : 52
وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا١ؕ مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا١ؕ وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ
وَكَذٰلِكَ : اور اسی طرح اَوْحَيْنَآ : وحی کی ہم نے اِلَيْكَ رُوْحًا : آپ کی طرف ایک وحی کو مِّنْ اَمْرِنَا : اپنے حکم سے مَا كُنْتَ تَدْرِيْ : نہ تھا تو جانتا مَا الْكِتٰبُ : کتاب کیا ہے وَلَا الْاِيْمَانُ : اور نہ ایمان وَلٰكِنْ : لیکن جَعَلْنٰهُ : بنایا ہم نے اس کو نُوْرًا : نور نَّهْدِيْ بِهٖ : راہ دکھاتے ہیں ہم ساتھ اس کے مَنْ : جس کو نَّشَآءُ : ہم چاہتے ہیں مِنْ عِبَادِنَا : اپنے بندوں میں سے وَاِنَّكَ لَتَهْدِيْٓ : اور بیشک آپ رہنمائی کرتے ہیں ۔ البتہ آپ ہدایت ہیں اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ : صراط مستقیم کی طرف
اور اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے تمہاری طرف روح القدس کے ذریعے (سے قرآن) بھیجا ہے تم نہ تو کتاب کو جانتے تھے اور نہ ایمان کو لیکن ہم نے اس کو نور بنایا ہے کہ اس سے ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں ہدایت کرتے ہیں اور بیشک (اے محمد ﷺ تم سیدھا راستہ دکھاتے ہو
(آیت نمبر 5253 ) مسئلہ نمبر 1 ۔ وکذلک اوحینآ الیک یعنی جس طرح ہم نے آپ سے قبل انبیاء کی طرف وحی کی اسی طرح آپ کی طرف وحی کی روحا یعنی نبوت ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے (1) حضرت حسن بصری اور قتادہ کا قول ہے (2) اپنی جناب سے رحمت۔ سدی نے کہا : وحی (3) کلبی نے کہا : کتاب (4) ربیع نے کہا : اس سے مراد جبریل امین ہیں۔ ضحاک نے کہا : اس سے مراد قرآن ہے (5) یہ مالک بن دینار کا قول ہے۔ اسے روح کا نام دیا کیونکہ اس میں جہالت کی موت سے زندگی ہے روح کو اپنے امر کا حصہ بنانا اس معنی میں ہے اسے نازل کیا جس طرح چاہا اور جس پر چاہا یعنی جو نظم معجز ہے اور تالیف معجب ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ویسئلونک عن الروح (الاسرائ :85) تو قرآن پر محمول کیا جائے قل الروح من امر ربی (الا سرائ : 85) وہ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ یہ قرآن آپ پر کہاں سے آتا ہے ؟ کہ دیجئے : یہ اللہ کا امر ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر نازل کیا ہے اس حال میں کہ یہ معجز ہے ؛ قشیری نے اس کا ذکر کیا ہے۔ مالک بن دینار کہا کرتے تھے : اے اہل قرآن ! تمہارے دلوں میں قرآن نے کیا بویا ہے ؟ بیشک قرآن دلوں کا موسم بہار ہے جس طرح بارش زمین کا موسم بہار ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ ماکنت تدری ما الکتب ولا الایمان یعنی تم ایمان کی طرف جانے والے راستہ کو نہیں پہچانتے تھے۔ اس کا ظاہر اس بات پر دلات کرتا ہے کہ وحی سے پہلے آپ ایمان سے متصف نہیں تھے۔ قشیری نے کہا : یہ امر عقول کے مجوزات میں سے ہے اکثر علماء جس طرف گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کو مبعوث نہیں کیا مگر وہ بعثت سے پہلے اس پر ایمان لانے والا تھا یہ بھی عقل سے حکم لگانا ہے مگر یہ کہ قطعی دلیل سے امر ثابت ہو۔ قاضی ابو فضل عیاض نے کہا : نبوت سے قبل ان کی عصمت کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے ‘ صحیح بات یہ ہے وہ نبوت سے پہلے اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات سے جاہل ہونے اور اس میں کسی قسم کی تشکیک سے پاک تھے انبیاء سے اخبار وآثار اس امر کی مئوید ہیں کیونکہ جب سے وہ پیدا ہوئے وہ اس نقص سے پاک ہی رہے بلکہ ان کی پیدائش توحید و ایمان پر ہی ہوئی بلکہ معارف کے انوار کے اشراق اور الطاف سعادت کے نحات پر ہوئی۔ جو آدمی ان کی ولادت سے لے کر ان کی بعثت تک کی سیرت کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ اس کو تسلیم کرتا ہے جس طرح حضرت موسیٰ ‘ حضرت یحییٰ اور حضرت سلیمان (علیہم السلام) کے احوال سے معروف ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : واتینہ الحکم صبیا۔ (مریم) مفسرین نے کہا : حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو کتاب اللہ کا علم ان کے بچینے میں دے دیا گیا تھا۔ معمر نے کہا : اس وقت ان کی عمر دو سال یا تین سات تھی ‘ بچوں نے ان سے کہا : تو کھیلتا کیوں نہیں ہے ؟ آ پنے فرمایا : کیا میں کھیل کے لیے پیدا کیا گیا ہوں مصدقا بکلمۃ من اللہ ( آل عمران :39) کے بارے میں کہا : حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی تصدیق کی جبکہ ان کی عمر تین سال تھی حضر یحییٰ نیگواہی دی کہ حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کلمۃ اللہ اور روح اللہ ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) نے حضرت عیسیٰ علیہ الشسلام کی تصدیق کی جبکہ وہ ابھی اپنی ماں کے پیٹ میں تھے حضرت یحییٰ کی والدہ حضرت مریم کو کہا کرتی تھی : میرے بطن میں جو ہے وہ تیرے پیٹ میں جو کچھ ہے اسے سلام کی غرض سے سجدہ کرتے ہوئے پاتی ہوں۔ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت ہوئی تو انہوں نے اپنی والدہ سے گفتگو کی اس پر اللہ تعالیٰ کا کلام واضح ہے الا تحزنی (مریم :24) اس کی قرأت کے مطابق جس نے من تحتھا کی قرأت کی ہے ‘ اس کے قول کے مطابق جس نے کہا : ندا کرنے والے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تھے اور پنگھوڑے میں ان کی کلام پر یہ نص بیان کی ‘ فرمایا : انی عبد اللہ اتنی الکتب وجعلنی نبیا۔ (مریم) اور فرمایا : ففھمنھا سلیمن وکلا اتینا حکما وعلما ( الانبیا :79) حضرت سلیمان علیہ اسلام کے حکم کے بارے میں کہا گیا جبکہ وہ بچے تھے۔ بچوں کے ساتھ کھیلتے تھے یہ فیصلہ انہوں نے رجم کی جانے والے عورت اور بچے کے بارے میں کیا تھا جس کی پیروی ان کے والد حضرت دائود نے کی تھی۔ طبری نے یہ حکایت بیان کی ہے : جب ان کو حکومت ملی اس وق تان کی عمر بارہ سال تھی ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون کیساتھ جو واقعہ ہے وہ بھی اسی طرح ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کی داڑھی پکڑی جبکہ ابھی وہ بچے تھے مفسرین نے اللہ تعالیٰ کی فرمان : ولقد اتینآ ابرھیم رشدہ من قبل (الانبیائ :51) کے بارے میں فرمایا : ہم نے اسے ہدایت دی جبکہ اس کی عمر چھوٹی تھی ؛ یہ مجاہد اور دوسرے علماء کا قول ہے۔ ابن عطا نے کہا : اس کی پیدائش سے قبل ہی اس کو چن لیا گیا۔ بعض نے کہا : جب حضرت ابرہیم (علیہ السلام) کی ولادت ہوئی اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف ایک فرشتہ بھیجا جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے اسے حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے دل سے اللہ تعالیٰ کی پہچان کرے اور زبان سے اس کا ذکر کرے تو حضرت ابراہیم نے جواب دیا میں نے ایسا کرلیا ہے یہ نہیں کہا میں ایکا کروں گا یہ ان کی ہدایت تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت ابرہیم (علیہ السلام) کو جب آگ میں پھینکا گیا اور ان کا امتحان ہوا اس وقت ان کی عمر سولہ سال تھی، حضرت اسحاق (علیہ السلام) کا ذبح کو صورت میں امتحان سات سال کی عمر میں ہوا تھا ،: حضرت ابرہیم (علیہ السلام) نے ستاروں، چاند اور سورج سے جب استدلال کیا اس وقت ان کی عمر پندرہ سال تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے آپ کو کنوئیں میں پھینکنے کا ارادہ کیا تھا اس وقت آپ بچے تھے ارشاد باری تعالیٰ ہے : واوحینا الیہ لتنبئنھم بامرھم ھذا (یوسف : 15) اس کے علاوہ بھی اخبار موجود ہیں۔ سیرت نگاروں نے یہ بیان کیا ہے کہ ہمارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ (علیہ السلام) کی جب ولادت ہوئی تو آپ اپنے ہاتھ زمین پر پھیلائے ہوئے تھے اور اپنا سر آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے تھے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جب میں بڑا ہوا تو میرے دل میں بتوں کا بغض پیدا ہوگیا، شعر سے بغض پیدا ہوگیا دور جاہلیت کے فوگ جس قسم کے کام کرتے میں نے ان سے کسی شے کا ارادہ نہیں کیا مگر صرف دو دفعہ ارادہ کیا اللہ تعالیٰ نے دونوں دفعہ مجھے اس سے محفوظ رکھا پھر میں نے اس کا اعادہ نہ کیا “ (1) ۔ پھر ان کے لیے امر پختہ ہوجاتا ہے اللہ تعالیٰ کی نوازشات پے درپے ان پر واقع ہوتی ہیں، معارف کے انواران میں روشن ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ وہ انتہا تک جاپہنچتے ہیں یہ کسی تجربہ اور مشق کی وجہ سے ایسا نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و لما بلغ اشدہ واستوٰ اتینہ حکما و علما (القصص : 14) قاضی نے کہا : تاریخ دانوں میں سے کسی نے یہ نقل نہیں کیا کہ کسی ایسے شخص کو نبوت عطا کی گئی ہو یا اسے منتخب کیا گیا ہو جس کے بارے میں یہ معروف ہو کہ اس نے اس سے قبل کفر اور شرک کیا ہو اس بارے میں جس پر احصار کیا جاسکتا ہے وہ اخبار منقولہ ہیں بعض نے یہ استدلال کیا ہے کہ جس آدمی کا یہ طریقہ رہاہو دل اس سے نفرت کرتے ہیں۔ قاضی نے کہا میں کہتا ہوں : قریش نے ہمارے نبی کریم ﷺ پر ہر ایسی بات کے ساتھ اعتراض کیا جس کو انہوں نے اپنی جانب سے گھڑا ‘ امتوں کے کفار نے اپنے انبیاء کو ہر اس چیز سے عار دلائی جو ان کے لیے ممکن تھا اور جس کو انہوں نے گھڑا تھا جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا یاراویوں نے ہمارے لیے اسے نقل کیا لیکن ہم یہ نہیں پاتے کہ ان میں سے کسی نے کسی نبی کو اس بات پر شرمندہ کیا ہو جس امر میں وہ اس کے ساتھ متفق تھا اب اس کو ترک کردیا ہے اگر کوئی ایسی بات ہوتی تو وہ اعتراض کرنے میں جلدی کرتے اپنے معبود کو تبدیل کرنے پر اس کے خلاف استدلال کرتے وہ نبی انہیں جس چیز سے منع کرتا ہے جبکہ وہ خودپہلے اس کی عبادت کرتے تھے اس معاملہ میں ان کا اسے شرمندہ کرنا یہ دلیل میں زیادہ خوفناک اور استدلال میں قطعی ہوتا اس کی بنسبت کہ اس نے ان کے معبودوں کو چھوڑ دیا ہے اور ان معبودوں کو چھوڑ دیا جن کی ان کے آباء پرستش کیا کرتے تھے ان لوگوں کا اس نبی سے اعراض پر اتفاق اس بات کی دلیل ہے کہ انہوں نے ایسی کوئی راہ نہیں پائی تھی کیونکہ اگر کوئی بات ہوتی تو ضرور نقل کی جاتی اور وہ خاموش نہ رہتے جس طرح وہ تحویل قبلہ کے بارے میں خاموش نہ رہے انہوں نے کہا : ماولھم عن قبلتھم التی کانوا علیھا (البقرہ : 142) جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں حکایت بیان کی ہے۔ مسئلہ نمبر 3۔ علماء نے ہمارے نبی ﷺ کے بارے میں گفتگو کی کیا وحی سے قبل کسی دین کے پیروکار تھے یا نہیں تھے ؟ کچھ نے تو مطلق اس کا انکار کیا اور ازروئے عقل کے اسے محال جانا انہوں نے کہا : جس کے بارے میں یہ معروف ہو کہ وہ تابع ہے اس کے لیے متبوع ہونا بعید ہے انہوں نے اس کی بنیاد حسن و قبح پر رکھی ہے۔ دوسری جماعت نے کہا : نبی کریم ﷺ کے بارے میں توقف کیا جاتا ہے اور کسی کا قطعی حکم نہ لگایا کیونکہ عقل ان دونوں میں سے کسی صورت کو محال قرار نہیں دیتی اور نہ ہی بطریق نقل ان میں سے کوئی صورت واضح ہے ؛ یہ ابو معالی کا مذہب ہے۔ تیسری جماعت کا نقطہ نظر ہے : آپ پہلی شریعت کے پیروکا تھے اور اسی پر عامل تھے، پھر ان علماء نے تعیین میں اختلاف کیا ہے۔ ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ آپ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دین پر تھے کیونکہ آپ کا دین تمام سابقہ ادیان اور ملل کے لیے ناسخ تھا کیونکہ یہ جائز نہیں کہ نبی منسوخ دین پر عمل پیرا ہو۔ ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ آپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر تھے کیونکہ آپ ﷺ ان کی اولاد تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ابوالاانبیاء تھے۔ ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ آپ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دین پر تھے کیونکہ وہ دینوں میں سے سب سے قدیمی دین ہے۔ معتزلہ کا کہنا ہے : لازماً آپ کسی دین کے پیرو کار تھے مگر کون سا دین تھا یہ ہمیں معلوم نہیں۔ ہمارے ائمہ نے ان تمام اقوال کو باطل قرار دیا ہے کیونکہ یہ ایسے اقوال ہیں جو متعارض ہیں ان میں کوئی قطعی دلیل نہیں اگرچہ عقل ان سب کو جائز قرار دیتی ہے جو بات قطعی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کسی ایک نبی کی طرف اس طرح منسوب نہیں تھے کہ وہ نسبت یہ تقاضا کرتی ہو کہ آپ اس کے امتی ہیں اور اس کی شریعت کے مخاطب ہیں بلکہ ان کی شریعت بذات خود مستقل ہے اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کا آغاز ہوا آپ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان رکھتے تھے، آپ ﷺ نے کسی بت کو سجدہ نہ کیا نہ بارش والی قسم میں حاضر ہوئے اور نہ خوشبو لگا کر قوم اٹھانے والوں میں حاضر ہوتے بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس سے محفوظ و مامون رکھا۔ اگر یہ سوال کیا جائے : عثمان بن ابی شیبہ نے یہ حدیث بیان کی ہے (1) کہ حضرت جابر نے کہا کہ نبی کریم ﷺ مشرکین کے ساتھ ان کے مشاہد میں حاضر ہوتے آپ پیچھے دو فرشتوں کو باتیں کرتے ہوئے سنا ایک دوسرے کو کہہ رہا تھا : جائو یہاں تک کہ ان کے پیچھے کھڑے ہو جائو، تو دوسرے نے کہا : میں اس کے پیچھے کیسے کھڑا ہو سکتا ہوں جبکہ اس کا وقت بت کو سلام کا ہے ؟ اس کے بعد آپ ﷺ کبھی بھی ان کے ساتھ ان کی جگہوں پر حاضر نہ ہوئے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ امام احمد بن حنبل نے اس روایت پر سخت جرح قدح کی ہے کہا : یہ موضوع ہے یا موضوع کے مشابہ ہے۔ دارقطنی نے کہا : عثمان کو سند میں وہم ہوا ہے، حدیث منکر ہے اس کی سند پر اتفاق نہیں اس وجہ سے اس کی طرف کوئی توجہ نہ کی جائے گی۔ علماء کے نزدیک اس کے برعکس ثابت ہے حضور ﷺ کا ارشاد ہے : بغضت الی الا صنام اور بحیرہ راہب کے قصہ میں آپ کا ارشاد : لا تسالنی بھما فو اللہ ما ابغضت شیاقط بغضھما اس پر دلیل ہے بحیرہ راہب نے جب شام میں آپ ﷺ سے ملاقات کی جبکہ اس سفر میں آپ اپنے چچا کے ساتھ تھے اور ابھی بچے تھے اس نے آپ ﷺ میں نبوت کی علامات دیکھیں تو بطور امتحان کہا کہ لات اور عزی کی قسم اٹھائو تو آپ نے یہ جواب دیا تھا : ” مجھ سے ان کے بارے میں قسم کا سوال نہ کرو جتنا میں ان دونوں سے بغض رکھتا ہوں ایسا بغض میں کسی سے نہیں رکھتا “۔ بحیرا نے آپ سے کہا : اللہ کی قسم ! جو میں تجھ سے پوچھوں گا تم ضرور اسکا جواب دو گے۔ فرمایا : ” جو چاہو سوال کرو “۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت میں یہی معروف ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو توفیق دی کہ آپ نبوت کے اعلان سے قبل حج کے موقع پر مشرکین کی مخالفت کرتے وہ مزدلفہ میں ٹھہر جاتے نبی کریم ﷺ عرفات میں وقوف کرتے کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ٹھہرنے کی یہی جگہ ہے۔ اگر یہ سوال کیا جائے : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے قل بل ملتہ ابرھم (البقرۃ : 135) فرمایا : ان اتبع ملتہ ابرھیم (نحل : 123) فرمایا : شرع لکم من الدین (الشوریٰ : 13) یہ امر اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ آپ شریعت کے پیروکار تھے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ان امور میں سے ہے جن میں شریعتوں میں اختلاف نہیں ہوتا جیسے توحید، اقامت دین۔ جس کی وضاحت کئی مواقع پر ہو چکی ہے۔ اس سورت میں شرع لکم من الدین میں گذر چکی ہے۔ الحمد اللہ۔ مسئلہ نمبر 4۔ جب یہ بات واضح ہوگئی تو یہ بات جان لو کہ علماء نے اس میں اختلاف کیا ہے کہ ماکنت تدری ما الکتب ولا الایمان کی تعبیر کیا ہے۔ ایک جماعت نے کہا : اس اٹیت میں ایمان کا معنی ایمان کے شرائع اور معالم ہیں ؛ یہ ثعلبی نے ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس شرع کی تفاصیل مراد ہیں یعنی ان کی تفاصیل نہیں جانتے تھے۔ ایمان کے الفاظ کا اطلاق شرع کی تفاصیل پر کرنا بھی جائز ہے ؛ یہ قشیری نے ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وحی سے پہلے آپ ﷺ قرآن پڑھنا نہیں جانتے تھے اور نہ یہ جانتے تھے کہ آپ کیسے مخلوق کو ایمان کی طرف دعوت دیں ؛ اسی کی مثل ابو العالیہ سے مروی ہے۔ ابوبکر قاضی نے کہا : یہاں ایمان سے مراد فرائض اور احکام ہیں، کہا : اس سے پہلے آپ توحید پر ایمان رکھنے والے تھے پھر فرائض نازل ہوئے جن سے پہلے آپ آگاہ نہ تھے احکام کے مکلف بنائے جانے کے ساتھ ایمان میں اضافہ ہوا۔ یہ چاروں اقوال قریب قریب ہیں۔ ابن خزیمہ نے کہا : ایمان سے مراد نماز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وما کان اللہ لیضیع ایمانکم (البقرۃ : 143) مراد یہ ہے تم نے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے جو نماز پڑھی ہے اس کو ضائع کرنے والا کوئی نہیں، لفظ عام ہے اور مراد خاص ہے۔ حسین بن فضل نے کہا : آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور نہ ہی اہل ایمان کا جانتے تھے یہ کلام اس قبیل سے ہوگی جس میں مضاف حزف ہوتا ہے یعنی کون ایمان لائے گا، ابو طالب، حضرت عباس یا کوئی اور ؟ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب آپ پنگھوڑے میں تھے اور بلوغت سے قبل آپ کچھ بھی نہ جانتے تھے۔ ماوردی نے علی بن عیسیٰ سے اسی کی مثل روایت بیان کی ہے۔ اگر رسالت نہ ہوتی تو آپ نہ جانتے کہ کتاب کیا ہے اور اگر بلوغت نہ ہوتی تو آپ نہ جانتے کہ ایمان کیا ہے (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اگر ہمارا تم پر انعام نہ ہوتا تو آپ نہ جانتے کہ کتاب کیا ہے اور اگر ہم آپ کو ہدایت نہ دیتے تو آپ نہ جانتے کہ ایمان کیا ہے، اس میں احتمال موجود ہے۔ اس ایمان میں دو وجوہ ہیں : (1) اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان، اسے آپ بلوغت کے بعد اور نبوت سے پہلے جانتے تھے (2) دین اسلام، اسے آپ نبوت کے بعد جانتے تھے۔ میں کہتا ہوں : صحیح بات یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان رکھتے تھے پیدائش سے لے کر بالغ ہونے تک جس طرح یہ بحث پہلے گذر چکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ما کنت تدری ما الکتب ولا الایمان یعنی آپ امی قوم سے تعلق رکھتے تھے وہ نہ کتاب کو جانتے اور نہ ہی ایمان کو۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے : و ما کنت تتلو امن قبلہ من کتب ولا تخطہ بیمیک اذا لا رتاب المبطلون۔ (العنکبوت) یہ معنی حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ الکن جعلنہ حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک نے کہا : ضمیر غائب سے مراد ایمان ہے (2) ۔ سدی نے کہا : مراد قرآن ہے (3) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد وحی ہے یعنی ہم نے اس وحی کو بنایا نور۔ نور انھدی بہ من نشاء من نشاء یعنی جسے ہم نبوت کے لیے پسند کرتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : یختض برحمتہ من یشاء (البقرۃ : 105) ضمیر واحد ذکر کی کیونکہ کثرت اسماء میں فعل اس فعل کے قائم مقام ہوتا ہے جو اسم واحد میں ہو کیا تو نہیں دیکھتا کہ وہ کہتا ہے : اقبالک وادبارک معجبنی تو ضمیر غائب واحد کی لاتا ہے جبکہ اقبال اور اوبار دو چیزیں ہیں۔ وانک لتھدی الی صراط مستقیم۔ تو راہنمائی کرتا ہے اور دعوت دیتا ہے ایسے دین کی طرف جو سیدھا ہے اس میں کوئی کمی نہیں۔ حجرت علی شیر خدا ؓ نے فرمایا : کتاب مستقیم کی طرف راہنمائی کرتا ہے (4) ۔ عاصم اور حجدری وانک لتھدی مجہول کا صیغہ پڑگا ہے یعنی فعل مجہول ہے باقی قراء نے اسے معروف کا صیغہ پڑھا ہے حضرت ابی کی قراءت میں وانل لتذعو ہے۔ نحاس نے کہا : یہ قراءت نہ کی جائیگی کیونکہ یہ مصاحف کے خلاف ہے اس قسم کے قول کو قائل کی جانب سے اس معنی پر محمول کیا جائے گا کہ یہ تفسیر کے طور پر ہے جس طرح کہا : و انک لتھدی یعنی آپ دعوت دیتے ہیں۔ معمر نے قتادہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان و انک لتھدی الی صراط مستقیم۔ کی تفسیر میں یہ آیت ذکر کی ولکل قوم ھاد۔ (الرعد)
Top