Anwar-ul-Bayan - Al-Waaqia : 12
فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ١ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ
فَاعْتَرَفُوْا : تو وہ اعتراف کرلیں گے بِذَنْۢبِهِمْ : اپنے گناہوں کا فَسُحْقًا : تو لعنت ہے۔ دوری ہے لِّاَصْحٰبِ السَّعِيْرِ : دوزخ والوں کے لیے
پس وہ اپنے گناہوں کا اقرار کرلیں گے سو دوزخیوں کیلئے (رحمت خدا سے) دوری ہے
(67:11) فاعترفوا بذنبھم : قالوا پر عطف تفسیری ہے یعنی انہوں نے اپنے جرم کا ایسے وقت اعتراف کیا جب اعتراف غیر مفید تھا۔ اعتراف (افتعال) کا معنی ہے پہچاننے کے بعد اقرار کرنا۔ اور (ذنب) گناہ سے مراد ہے کفر۔ ذنب چونکہ اصلا مصدر ہے اور مصادر میں باعتبار اصل جمع نہیں ہوتی اس لئے ذنب کو بصورت جمع ذکر نہیں کیا۔ فسحقا لاصحب السعیر : سحقا مفعول مطلق ہے اور مصدر ہے اس کا فعل محذوف ہے ۔ ای فاسحقھم اللہ سحقا : اللہ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا۔ یہ جملہ بددعائیہ معترضہ ہے (تفسیر المظہری) سحق (باب سمع) مصدر۔ دور کرنا، دفع کرنا، سحق سے سحیق بروزن فعیل بمعنی فاعل بمعنی دور، بعید 22:31 میں مستعمل ہے
Top