Tafseer-Ibne-Abbas - At-Tawba : 96
لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآءُ١ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوْا وَ قَتْلَهُمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ نَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ
لَقَدْ سَمِعَ : البتہ سن لیا اللّٰهُ : اللہ قَوْلَ : قول (بات) الَّذِيْنَ : جن لوگوں نے قَالُوْٓا : کہا اِنَّ اللّٰهَ : کہ اللہ فَقِيْرٌ : فقیر وَّنَحْنُ : اور ہم اَغْنِيَآءُ : مالدار سَنَكْتُبُ : اب ہم لکھ رکھیں گے مَا قَالُوْا : جو انہوں نے کہا وَقَتْلَھُمُ : اور ان کا قتل کرنا الْاَنْۢبِيَآءَ : نبی (جمع) بِغَيْرِ حَقٍّ : ناحق وَّنَقُوْلُ : اور ہم کہیں گے ذُوْقُوْا : تم چکھو عَذَابَ : عذاب الْحَرِيْقِ : جلانے والا
یہ تمہارے آگے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے خوش ہوجاؤ۔ لیکن اگر تم ان سے خوش ہوجاؤ گے تو خدا تو نافرمان لوگوں سے خوش نہیں ہوتا۔
(96) تاکہ آپ ان کو معاف کردیں اور ان سے کوئی مواخذہ نہ کریں سو تم بھی انکو ان کے حال پر چھوڑ دو کیوں کہ وہ باکل بیہودہ ہیں اور آخرت میں ان کا ٹھکانا دوزخ ہے ان کاموں کے بدلے میں جو کہ وہ کہتے اور کرتے تھے اور یہ آپ کی رضا حاصل کرنے کے لیے قسمیں کھائیں گے، بالفرض آپ ان کی جھوٹی قسموں سے ان سے راضی ہو بھی جائیں تو اللہ ان منافقین سے راضی نہیں ہوتا۔
Top